یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔نواز شریف کا پاکستان میں رہنا عمران خان کی حکومت کے لیے خطرناک کیوں؟ تہلکہ خیز تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کی رہنما سائرہ افضل تارڑ نے کہاہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف ملک سے باہر جا کر واپس نہ آئیں ،حکومت کے قول و فعل میں تضاد نظر آرہاہے ، اس پہلے کون سکیورٹی بانڈ دیکر گیاہے ، حکومت کیوںایسے کررہی ہے ؟نجی نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے

ہوئے سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ جس دن سے نواز شریف کی حالت خراب ہوئی ہے اس دن سے لیکر حکومت کے قول وفعل میں تضاد نظر آرہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف کی طبیعت خراب ہوگئی تو نیب انپی صفائیاں دے رہی تھی ، حکومت اپنی صفائیاں دے رہی تھی ۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیںاور نہ کوئی چین آف کمانڈ ہے ۔سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس اختیار نہیں ہے اور اب جو یہ حیلے بہانے کررہے ہیں ۔ ایسا کرنے سے کیا یہ تاثر ختم ہوجائے گا ،حکومت نے پہلے دن کیوں نہیں کابینہ کی سب کمیٹی کی طرف معاملہ بھیجا ہے ، کیایہ پہلے دن نہیں کیا جاسکتا تھا؟انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک سے باہر جائیں تو واپس بھی آئیں گے ، حکومت نہیں چاہتی کہ نواز شریف ملک سے باہر جاکر واپس آئیں ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر ہونے والے کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سب سے زیادہ مخالفت وزیر اعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے کی۔ کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی ڈٹ کر مخالفت کی اور کہا کہ انہوں نے 16 سالہ وکالت میں ایسی مثال نہیں دیکھی کہ مجرم کا بیرون ملک علاج ہو۔ اجلاس کے دوران وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، وفاقی وزیر علی زیدی اور عثمان ڈار نے بھی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حق میں بات کی۔