حکومت گرانا ہمارے دائیں ہاتھ کا کھیل ہیں ہم صرف اس انتظار میں ہیں کہ۔۔۔اپوزیشن کس کے اشارے کی منتظر ہے ؟ نام آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کر ڈالے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے کہاہے کہ اسلام آباد میں مجمع بہت بڑاہے ، مولانافضل الرحمان نے بہت زیادہ تیار ی کی ہوئی تھی ، حکومت کیلئے اس مجمع کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا ، اس وقت سیاسی جماعتیں کچھ مخصوصی سیاسی مقاصد کیلئے اکٹھی ہوئی ہیں اور ماضی میں بھی ایسے

اتحاد ہوتے رہے ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ احتجاج کے اور بہت سے طریقے ہیں لیکن ہم اس چیز کو بھی سمجھتے ہیں کہ ماضی میں بھی دو دھرنے اسلام آباد میں دیئے گئے جس پر ہم نے واضح پوزیشن لی تھی ، اس وقت بھی ہماری وہی پوزیشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں کچھ مخصوصی سیاسی مقاصد کیلئے اکٹھی ہوئی ہیں اور ماضی میں بھی ایسے اتحاد ہوتے رہے ہیں ، ہمارے جومشترکہ مطالبات ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا مطالبہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ مذہب کواستعمال کیا جارہاہے ۔مولانا فضل الرحمان کی ڈیڈلائن کے حوالے سے مصطفی نواز کھوکھر کا کہناتھا کہ ڈیڈلائن اپنی جگہ پر برقرار ہے اور رہبر کمیٹی اس ڈیڈلائن کے ختم ہونے کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے ، اس پر گفت وشنید جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مجمع بہت بڑاہے ، مولانافضل الرحمان نے بہت زیادہ تیار ی کی ہوئی تھی ، حکومت کیلئے اس مجمع کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن نے کہاہے کہ الیکشن اس ملک میں کبھی بھی مثالی نہیں رہے ، اس وقت اسلام آباد میں عجیب قسم کی تھیوریاں چل رہی ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں بے نقاب ہوجائیں گی ، یہ وقت بتائے گا ۔دنیانیوز کے پروگرام ”اختلافی نوٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ الیکشن اس ملک میں کبھی بھی مثالی نہیں رہے ، اس وقت اسلام آباد میں عجیب قسم کی تھیوریاں چل رہی ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں بے نقاب ہوجائیں گی ، یہ وقت بتائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عدالتوں میں دھرنوں پر دوفیصلے آچکے ہیں، عدالتی فیصلوں پر ہی معاہدے ہوا تھا جس پر حکومت نے آزادی مارچ کو تمام تر سہولیات دیں ہیں۔ندیم افضل چن کا کہناتھا کہ کور کمیٹی میں جو فیصلہ ہوا ہے کہ قانون اپنا راستہ بناتاہے لیکن عدالت سے رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ عدالتیں اسی کام کیلئے ہوتی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں اور بھی بہت سے بڑے بڑے کام ہوئے ہیں، ملک بھی ٹوٹا ہے ، وزرائے اعظم بھی پھانسی پر چڑھے ہیں، اس لئے ماضی میں نہیں رہنا ہوتا بلکہ آگے چلنا ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کاسیاسی حل یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آئیں ۔ حکومت کوئی ایسا کام نہیں کرناچاہتی کہ دنیا کہے کہ پاکستان میں یہ ہورہا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا پاکستان کی تعریف کرے