نواز شریف کے ذاتی معالج کو وارننگ۔۔۔ ڈاکٹر عدنان سے ایسی کیا غلطی سرزد ہو گئی کہ نیب والے ان کے پیچھے پڑ گئے؟ تازہ ترین اطلاعات

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان کو نیب کی طرف سے ادارے کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے پر جاری کیا گیا وارننگ لیٹر منظر عام پر آگیا۔نیب لاہور نے 25 اکتوبر کو ڈاکٹر عدنان کو لیٹر ارسال کیا جس میں مختلف حقائق پر توجہ دلائی گئی ۔ڈاکٹر عدنان کو مخاطب کرتے

ہوئے کہا گیا آپکی جانب سے نیب کو ارسال خط میں کئے گئے دعوے حقائق کے منافی اور محض ہرزہ سرائی کے سوا کچھ نہیں۔ نیب نے باور کروایا نیب سے آپکو ہمیشہ نواز شریف کے معائنے کی اجازت ملتی رہی جسکا مکمل ریکارڈ بھی دستیاب ہے۔ریکارڈ کے مطابق آپ نے 11، 19 اور 21 اکتوبر کو نواز شریف کا جامع معائنہ کیا اور روزانہ کی بنیاد پر دوائیں آپ خود فراہم کرتے رہے ۔آپکو نواز شریف کے خون کے نمونے اور دیگر ٹیسٹ کروانے کی سہولت بھی فراہم رہی ۔لیٹر میں کہا گیا آپ کو معلوم ہے نواز شریف کو گھر سے من پسند کھانا منگوانے کی فراخ دلانہ اجازت بھی دی گئی جو 11 اکتوبر سے 21 اکتوبر تک وہ حاصل کرتے رہے ۔ڈاکٹر عدنان کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے منحرف ہونے اور غلط معلومات فراہم کرنے پر لیٹر ارسال کیا گیا۔ خط کے مطابق ڈاکٹر عدنان کو نواز شریف کے خون کے نمونے اور دیگر ٹیسٹ کروانے کی سہولت منشا کے مطابق میسر رہی، جس پر عمل درآمد بھی ہوتا رہا، نواز شریف کو گھر سے من پسند کھانا منگوانے کی فراخ دلانہ اجازت بھی دی گئی جس سے 11 اکتوبر سے 21 اکتوبر تک فائدہ اٹھایا گیا۔یاد رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ نوازشریف کی حالت تشویش ناک ہے، زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ پلیٹ لیٹس اورعارضہ قلب کی بیماری مزید پیچیدہ ہوگئی ہے، نوازشریف کے گردوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے، شوگر اور بلڈپریشر کی وجہ سے طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج نے مزید کہا کہ نوازشریف کی بیماریوں سے متعلق ابہام دور نہیں ہو پا رہا ہے، صحت کے سنگین مسائل کی وجہ سے نوازشریف کو خطرات ہیں۔