مولانا فضل الرحمان کے پیچھے کس خلائی مخلوق کا ہاتھ ہے ؟ سیاسی تجزیہ کار ایاز امیر نے کھلاڑیوں کو بڑا سرپرائز دے دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ( جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی کال پر گذشتہ روز سے آزادی مارچ شروع ہو چکا ہے جس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی حصہ لیا۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ

آزادی مارچ کے حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ جے یو آئی کو تھپکی بہر حال نہیں ہے، اگر تھپکی ہوتی تو ڈی چوک پر دھرنا نہ دینے والی بات کون مانتا تھا ؟ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز سے ہی جے یو آئی (ف) نے سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ آزادی مارچ کا آغاز کر رکھا ہے۔مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ شروع ہونے پر تمام سیاسی تجزیہ کار اس کی کامیابی اور ناکامی پر گفتگو کرر ہے ہیں۔خیال رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ لئے اپنے آزادی مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اعلان کردہ آزادی مارچ کی حمایت حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کر رہی ہیں۔آزادی مارچ کا قافلہ سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا رات گئے سکھر پہنچا جہاں سے صبح 28 اکتوبر کو جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آگے روانہ ہو گیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کا قافلہ مارچ سے نکل کر براستہ دادو لاڑکانہ روانہ ہوا، مولانا فضل الرحمان نے رات لاڑکانہ میں قیام کیا۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس اور دیگر متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔اس ضمن میں ہوٹل میریٹ سے پاک سیکریٹریٹ تک جانے والی سڑک کا ایک حصہ بھی بند کردیا گیا ہے۔واضح رہےاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم و گورنر پنجاب محمد احمد محمود آزادی مارچ کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمن استقبال نہیں کریں گے۔تفصیلات کے مطابق مخدوم احمد محمود کے دو صاحبزادے رحیم یار خان سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں تاہم سابق گورنر پنجاب خاندان کے ہمراہ لاہور گئے ہوئے ہیں۔