اندر کی کہانی : مولانا فضل الرحمٰن حکومتی کمیٹی کی بجائے کس سے مذاکرات کے خواہاں ہیں ؟ حامد میر نے بڑی خبر دے دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمن کی اسلام آبادمارچ کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں وہاں حکومت کی طرف سے کبھی مذاکرات تو کبھی ایسے بیانات کہ جس سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے جیسا کہ ایک تقریب میں وزیراعظم عمران خان کا مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کہنا ۔اب نامور

صحافی اور تجزیہ کار حامدمیر نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں جولوگ ہیں جے یوآئی ان سے بات کرنے پر تیار نہیں ہے البتہ چیئر مین سینٹ کے ساتھ وہ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں اوراس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک تو ان کی قاتل مسکراہٹ ہے اور دوسراتحریک انصاف سے ان کا تعلق نہیں ہے ۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام ”نیا پاکستان “میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ قاسم سوری کے قبل از وقت بیان کی وجہ سے مذاکرات کا ماحول خراب ہوگیا اور اس سے قبل وزیر اعظم کی تقریر سے ہی مذاکرات کا ماحول خراب ہوگیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اب اپوزیشن نے یہ فیصلہ کیاہے کہ مذاکرات کا دروازہ نہیں بند کریں گے اور رہبر کمیٹی کا اجلاس بلا کر متفقہ رائے قائم کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ پرویزخٹک نے تین چار ذرائع سے مولانا فضل الرحمان تک رسائی کی کوشش کی اور ایک پیغام ان تک پہنچ بھی گیا لیکن مولانا فضل الرحمان نے انکار کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ابھی تک استعفیٰ کی شرط واپس نہیں لی گئی ۔ جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ اگر حکومت کی کوئی ٹیم آتی ہے تو اس کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ حامد میر کا کہناتھا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں جولوگ ہیں جے یوآئی ان سے بات کرنے پر تیار نہیں ہے البتہ چیئر مین سینٹ کے ساتھ وہ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں اوراس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک تو ان کی قاتل مسکراہٹ ہے اور دوسر اتحریک انصاف سے ان کا تعلق نہیں ہے ۔