میں یہ ثابت کر دونگی کہ ۔۔۔۔ ایک خاتون نے جسم فروشی میں گزری اپنے زندگی دنیا کے سامنے لانے کا اعلان کیوں کر دیا ؟ حیران کن خبر

ڈبلن(ویب ڈیسک) آئرلینڈ کو کسی زمانے میں یورپ کی سب سے زیادہ قدامت پسند قوموں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا ، لیکن جدید آئر لینڈ اب کیتھولک چرچ کے سخت اخلاقی اور معاشرتی نظریات کا غلبہ نہیں رکھتا ہے۔ اب ملک میں چرچ کی حاضری میں کمی اور جنسی تعلقات فحاشی اور جنسی نوعیت کی طرف

زیادہ آزاد خیال رویہ کی طرف ردوبدل دیکھنے میں آرہا ہے۔لیکن اس سب کے باوجودجسم فروش عورتیں دنیا کی نظروں میں گرنے سے بچنے کے لیے اپنا دھندہ مخفی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں لیکن مغربی معاشرے کے رنگ ہی نرالے ہیں۔ اب آئر لینڈ کی اس خاتون ہی کو دیکھ لیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے عدالت پہنچ گئی کہ وہ ماضی میں جسم فروشی کرتی رہی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اس 43سالہ خاتون کا نام ریچل مورن ہے جس نے چند سال قبل اپنے جسم فروشی کے تجربے پر مبنی ایک کتاب’پیڈ فار: مائی جرنی تھرو پراسٹیٹیوشن‘ لکھی جو کافی کامیاب رہی۔ چند ماہ سے ایک اور جسم فروش خاتون تواتر کے ساتھ بلاگ لکھ رہی ہے اور ٹویٹس کر رہی ہے جن میں وہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ریچل مورن نے کبھی جسم فروشی نہیں کی۔ اس نے اپنی کتاب کو کامیاب بنانے کے لیے یہ جھوٹ بولا۔ اب ریچل اس ’گے ڈالٹن‘ نامی جسم فروش عورت کے خلاف عدالت پہنچ گئی ہے۔ گے ڈالٹن نے عدالت میں بتایا کہ ”میں بھی سالوں سے جسم فروشی کر رہی ہوں اور ڈبلن کی سڑکوں پر کھڑی ہوتی ہوں۔ میں نے کبھی وہاں ریچل کو نہیں دیکھا۔“ دوسری طرف ریچل کا دعویٰ ہے کہ اس نے 15سال کی عمر میں جسم فروشی شروع کی اور 7سال تک اس پیشے سے وابستہ رہی۔اپنی اس کتاب میں ریچل نے جسم فروشی اور انسانی سمگلنگ کے متعلق کئی اہم انکشافات کر رکھے ہیں۔ریچل کا کہنا تھا کہ ”گے ڈالٹن کی طرف سے مسلسل جھوٹے الزامات عائد کیے جانے کے بعد میرے پاس اس کے سوا اور کوئی آپشن نہیں بچا تھا کہ میں عدالت جاﺅں اور ثابت کروں کہ میں جسم فروشی کرتی رہی ہوں۔“