شاہ رخ خان اور عامر خان کا جھکاؤ نریندر مودی کی طرف ، مگر کیوں ؟ بی بی سی نے وجوہات بتا دیں

نیو دہلی(ویب ڈیسک) انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے دن دہلی میں شاہ رخ خان، عامر خان اور کنگنا رناوت سمیت شوبز سے وابستہ اہم شخصیات سے ملاقات کی اور ان سے مہاتما گاندھی کے خیالات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔وزیر اعظم مودی نے ان مشہور شخصیات سے اپیل کی کہ وہ سنیما کے

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔ ذریعہ مہاتما گاندھی کے نظریات کو فروغ دیں تاکہ نوجوان نسل مہاتما گاندھی کے نظریات کو جان سکے۔نریندر مودی نے کہا کہ ہماری فلمیں موسیقی اور رقص لوگوں اور معاشروں کو جوڑنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اس تقریب میں بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان عامر خان کنگنا رناوت جیکلین فرنینڈس ہدایتکار امتیاز علی ایکتا کپورانوراگ باسو بونی کپور اور دیگر معروف شخصیات موجود تھے، یہ تقریب مہاتما گاندھی کی پیدائش کے 150 برس پورے ہونے پر رکھی گئی تھی۔اداکار عامر خان کا مودی سے ملاقات کے بعد کہنا تھا کہ یہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ایک اچھی ملاقات تھی۔ ان کے خیالات سن کر اچھا لگا۔ وہ بہت متاثر کن ہیں۔‘اداکارہ کنگنا رناوت نے کہا کہ میرے خیال میں یہ پہلی حکومت اور پہلے وزیر اعظم ہیں جو فن اور فنکاروں کو سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے پہلے کسی نے بھی فلم انڈسٹری کا اتنا احترام نہیں کیا ہو گا۔ اور نہ ہی اس سے پہلے ملک میں کسی نے فنکاروں کی سافٹ پاور کو پہچانا ہو گا ۔ اس کے لیے میں اپنی اور پوری صنعت کی جانب سے وزیر اعظم کی شکر گزار ہوں۔‘جبکہ ایکتا کپور نے کہا کہ پہلی بار انھیں محسوس ہوا کہ کوئی ان کی صنعت کو ان سے زیادہ جانتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا ’یہ محسوس ہوا کہ ہماری طاقت کو کوئی جانتا ہے اور ہمیں معاشرے کے لیے کچھ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔‘فلمساز بونی کپور نے کہا ’آج فلم انڈسٹری

کے لیے ایک بہت ہی اچھا دن ہے۔ بی جے پی کے آنے اور خاص طور پر نریندر مودی کی وجہ سے فلم انڈسٹری کو جو فائدہ ہوا اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ واجپائی جی کے بعد سے یہ حکومت فلمی صنعت کے لئے اچھی ہے۔ واجپائی جی نے اسے ایک صنعت کے طور پر تسلیم کیا تھا اور جب سے مودی جی وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے کوشش کی ہے کہ ہمارے مسائل کو جلدی حل کیا جائے۔ہدایتکار انوراگ باسو نے کہا کہ جب ہم فلم بناتے ہیں تو یہ خیال آتا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ تفریح تو مقصد ہے ہی لیکن فلم بنانے والے کا ہمیشہ یہ سوال رہتا ہے۔ اور آج ہمیں ایک مقصداور راستہ مل گیا ہے۔ جس کی ہم سب تخلیقی لوگوں کو ضرورت ہے۔ہدایتکار امتیاز علی نے کہا ’گاندھی جی پر فلمیں بنانے کا خیال فلم انڈسٹری کے لیے بہت اچھی چیز ہے کیونکہ ہمارے لیے یہ موقع ہو گا کہ لوگ ایک بار پھر ان کے خیالات کو دیکھ سکیں۔ ہم گاندھی گاندھی تو بولتے ہیں لیکن ہمیں کبھی بھی ان کی باتوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ اچھا وقت ہے جب ہم گاندھی کے پاس واپس جا سکتے ہیں۔ اس سے تبدیلی آئے گی۔‘انڈین صحافی سواتی چترویدی نے وزیرِ اعظم مودی، شاہ رخ خان اور عامر خان کی تصویر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’خانوں کو سدھایا جا رہا ہے۔وزیاراعظم مودی نے فنکاروں کو سٹیچو آف یونٹی اور گاندھی میوزیم دیکھنے کا مشورہ بھی دیا ۔