بس بہت ہو گیا اب ۔۔۔۔۔۔ اہم ترین ملک میں ایک خاتون پر بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا دی گئی ، وجہ انتہائی دلچسپ اور حیران کن

کمپالا(ویب ڈیسک) آبادی میں اضافہ اور وسائل کی قلت کی بناء پر انسانی نسل صومالیہ یو گنڈا اور افریقہ کے دیگر ممالک میں سسک سسک کر زندگی گزار رہی ہے۔ مسلمان نسبتَا زیادہ بد حالی کا شکار اور محکوم ہیں اور بڑی طاقتوں پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ آپس کی لڑائیوں میں مبتلا تھوڑی اشیاء کے پیچھے

زیادہ لوگ بھاگ رہے ہیں ہر طرف بد انتظامی اور بد امنی ہے اور بے روزگاری اور آبادی بڑھ رہی ہے۔ایک خبر کے مطابق یوگینڈا میں ایک عورت پر 44 بچے پیدا کرنے کے بعد پابندی لگا دی گئی ۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مریم نباتنزی نامی خاتون کے 44 بچے ہیں جن میں سے 4 مرتبہ دو جڑواں بچے، 5 مرتبہ 3 جڑواں بچے اور پانچ بار چار جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔ مقامی طور پر انہیں سب سے زرخیز عورت کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ مریم کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوگئی تھی اور ایک سال بعد ہی اپنے پہلے بچے کو جنم دیا تھا۔ڈاکٹرز نے مریم پر مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ پابندی مریم کے اس خواہش کے بعد لگائی گئی جس میں مریم نے کہا تھا وہ ایک اور بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ ان کے والد کے بھی 45 بچے تھے۔محکمہ صحت نے بھی ڈاکٹرز کے مشورے پر مریم کی صحت کو دیکھتے ہوئے مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ماہر امراض نسواں کا کہنا ہے کہ مریم کو کوکھ کا کینسر بھی ہوسکتا ہے جب کہ ماہر نفسیات کی رائے میں اتنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے جو نہ ہونے کی صورت میں گھمبیر سماجی اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔دوسری جانب سلائی کڑھائی اور خواتین کا بناؤ سنگھار کر کے روزی روٹی کمانے والی مریم کا کہنا ہے کہ بچے اللہ کا تحفہ ہے، میری خواہش ہے سب کو اعلیٰ تعلیم، غذائیت سے بھرپور خوراک، خوش نما لباس اور خوش حال مستقبل دوں اور اس کے لیے تگ و دو میں بھی ہوں لیکن وسائل کی عدم دستیابی آڑے آرہی ہے۔اس حوالے سے ۔ ماہر امراض نسواں کا کہنا ہے کہ مریم کو کوکھ کا کینسر بھی ہوسکتا ہے جب کہ ماہر نفسیات کی رائے میں اتنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے جو نہ ہونے کی صورت میں گھمبیر سماجی اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔