ہمیں بس اب یہی صلہ ملنا تھا کیونکہ۔۔۔ نواز شریف کو جوتا پڑنے کے بعد سعد رفیق کا حیران کن ردعمل سامنے آ گیا

ہمیں بس اب یہی صلہ ملنا تھا کیونکہ۔۔۔ نواز شریف کو جوتا پڑنے کے بعد سعد رفیق کا حیران کن ردعمل سامنے آ گیا
لاہور(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں اور جمہورکی حکمرانی مانگنے کا صِلہ یہاں ہمیشہ یہ ہی ملا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرخواجہ سعد رفیق نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتا پڑنے کے ردعمل میں کہا کہ پھانسیاں، جلاوطنیاں، قتل، نااہلیاں، جیلیں، تشدد، بہتان دشنام، الزام، ڈنڈے، جوتے، چور، غدارکے لقب سے نوازا گیا اورملکی استحکام کیلئے کام کرنے سمیت جمہورکی حکمرانی مانگنے کا صِلہ یہاں ہمیشہ یہ ہی ملا۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ خدا کی پناہ ہے جو ایک دوسرے کی اتنی تذلیل ہے، ایسی تذلیل کے بعد ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی بڑھتی مقبولیت سے خائف عناصر کا ایک اور حملہ ہے جب کہ وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ آصف اور میاں نواز شریف پر تضحیک آمیز حملے ایک ہی سلسلے کی لڑی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا اچھالے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے شدید سیاسی مخالف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جوتا پھینکے جانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ عمل اخلاقیات کے خلاف ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کسی پر جوتے یا سیاہی پھینکی جائے تاہم خوشی ہے کہ اس میں تحریک انصاف کا کارکن ملوث نہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ نواز شریف پر جوتا پھینک کر گری ہوئی حرکت کی گئی، ایسی روایت سے سیاسی قیادت کے احترام کے لئے خطرات پیدا ہوں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ عدم برداشت کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہیے، پیپلزپارٹی اس طرح کی گری ہوئی حرکتوں کے ہمیشہ مخالف رہی ہے، اس طرح تذلیل سے سیاسی قیادت کو عوام سے براہ راست رابطے سے نہیں روکنا چاہیے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ جوتا پھینکوایا گیا یا کسی نے خود پھینکا قابل مذمت ہے، سیاسی جماعتوں کو صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، ایسی صورتحال میں کوئی جماعت یا گروہ سیاسی مجالس نہیں کر پائیں گی۔وزیراعظم کے مشیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ملک بھر کے رہنماؤں کے لئے لمحہ فکریہ ہے، نواز شریف کی مقبولیت سے خائف لوگ اوچھی حرکتوں پر اتر آئے ہیں، ایسی روایات قائم نہ کی جائیں کہ سیاست دان گھروں سے باہر نہ نکل سکیں۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سکندر حیات خان کا کہنا ہے کہ جوتا پھینکنا افسوسناک ہے، ایسے فعل سے پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ کسی کے اوپر بھی جوتا پھینکنا غلط اور غیر اخلاقی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ پیش آئے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ رجحان ملک اور قوم کے لئے تباہ کن ہے، اس واقعے کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذمت خوش آئند ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات ملکی سیاست کو انتشار کی جانب لے جائیں گے، سیاست میں احترام کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ اس طرح کا عمل غیر اخلاقی اور افسوسناک ہے، سیاست عدم تشدد کا درس دیتی ہے، اس طرح کے نازیبا عمل کے تدارک کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے۔ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد گروپ کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ سیاسی قائدین کی تضحیک غیر جمہوری اور غیر اخلاقی عمل ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ ان کی جماعت نوازشریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت کرتی ہے، کسی پر جوتا پھینکنا جمہوری روایات کے منافی عمل ہے۔قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ نواز شريف پرجوتا پھينکنے اور خواجہ آصف پر سياہی پھينکنے کی مذمت کرتے ہيں، اگر ملک کو اس راستے پر چلايا گيا تو کوئی محفوظ نہيں رہے گا۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر اس وقت جوتا اچھالا گیا جب وہ جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تھے۔