طالبہ نمرتا کے جسمانی اعضاء کا طبی معائنہ ۔۔۔۔ تازہ ترین رپورٹ کے نتائج نے ڈاکٹروں اور اہل خانہ کو چکرا دیا

لاڑکانہ(ویب ڈیسک) آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نمرتا کی پُراسرار ہلاکت کے کیس میں لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز جامشورو نے نمرتا کی ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ لاڑکانہ پولیس کے حوالے کردی۔اس رپورٹ کے مطابق نمرتا کی موت بظاہرتو دم گھٹنے یا آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی۔لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز جامشورو کی جانب سے

26 ستمبر کو مرتب کی گئی نمرتا کی ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ کے مطابق زہر دینے یا غیر طبعی موت کی صورت میں جسم کے اعضاء میں تبدیلی رونما ہوتی ہے لیکن نمرتا کے دل گردوں پھیپھڑوں اور جگر میں کوئی بھی غیر معمولی تبدیلی نہیں پائی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں نمرتا کی موت کا سبب تو ظاہر نہیں کیا گیا۔ لیکن شواہد یہی بتاتے ہیں کہ نمرتا نے خودکشی کی ہے اور اب تک کی تفشیش کے مطابق اس کے قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے۔نمرتا قتل کیس۔16 ستمبر کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی تھی ۔تفتیشی اداروں کا بھی یہ کہنا ہے کہ نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھے۔لیکن چند ماہ پہلے مہران ابڑو نے شادی سےانکارکردیاتھا اورانکار کی وجہ یہ پیش کی تھی کہ دونوں کے بیچ اسٹیٹس کاایک بہت بڑا فرق ہے۔ اور دوسرا مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی تھی۔امرتا کے ہاسٹل میں اس کےساتھ دو روم میٹس بھی رہتی تھیں۔ واقعہ کی رات وہ تقریبا بارہ سے ایک کے درمیان سوگئی تھیں۔صبح چھ بجے کے قریب دونوں سہیلیاں مندر جانے کے بعد اپنی کلاس میں چلی گئیں۔ دوپہر دو بجے جب دونوں لڑکیاں واپس کمرے میں آئیں

تو کمرہ اندر سے بند تھا۔ باربار دستک دینے کے باوجود بھی جب دروازہ نہ کھلا تو اندرجھانکنے پر معلوم ہوا کہ لائٹ تو آن ہے ۔ جس پر دونوں پریشان ہوئیں اوروارڈن کی مدد سے دروازے کا لاک توڑاگیا تو اندر کا دل کو دہلادینے والا منظر تھا۔ کیونکہ نمرتا دونوں چارپائیوں کے بیچ پڑی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ جکڑاہوا تھا۔دونوں سہیلیوں نے گلے سے دوپٹہ کو آزادکرنےکی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق اگر یہ قتل تھا تو دروازہ اندر سے کس طرح بند تھا اور قاتل نمرتا کو قتل کرنے کے بعد باہرکیسے گیا ۔تفتیشی حلقوں کے مطابق جس کمرے سے نمرتا کی لاش ملی اس کمرے کی چھت کی اونچائی تقریبا 13 سے 14 فٹ تھی جبکہ نمرتا کا قد تقریبا پانچ فٹ کے قریب تھا۔اگر اس نے اپنے بیڈ یا کرسی سے اوپر خود کو لٹکانے کی کوشش کی تو پنکھے تک اس کا دوپٹہ کیسے پہنچا۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس نے اپنے دوپٹے کو اونچا اچھال کر پنکھے کے اوپر سے گزارا ہو گا اور پھر اپنے گلے کے گرد لپیٹنے میں کامیاب ہو گئی اور کمرے میں پڑی کرسی کو دھکا دیا اور لٹک گئی۔لیکن نمرتا کے بھائی کے مطابق اگر اس نے خودکشی کی ہے تو پنکھا سیدھا کیسے رہ گیا۔تفتیشی اداروں کا اس پر کہنا ہے کہ نمرتا کا وزن تقریبا پچاس کلو کے لگ بھگ تھا ۔50کلوکےوزن سے پنکھے کا ایک پراوپری سطح سےکچھ متاثر ہواہےجو کہ غورسے دیکھنے پرپتاچلتاہے۔ البتہ نمرتانےجب کرسی کو دھکا دیا ہوگاتو دوپٹہ پھسل کر پروں کے درمیان آگیا اور وہ نیچے لٹکی اور گرگئی ہوگی جس سے اس کی آنکھ کے قریب آنے والی چوٹ کے نشان واضح ہیں۔ اس ساری صورتحال پر مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں،تاکہ یہ تمام گھتیاں جلد سلجھا دی جائیں ۔تفتیشی اداروں کامحور اس وقت مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سےبےحد پریشان ہے ۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سےدونوں کے درمیان ہونےوالی تمام چیٹ پہلے ہی ڈیلیٹ کر دی تھیں۔ مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنےوالے کہتےہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئےجانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔