حیران کن خبر : فاطمہ بھٹو بالی وڈ کے کس اداکارہ کی گرویدہ ہو گئیں اور پس پردہ کہانی کیا ہے ؟

کراچی(ویب ڈیسک) کہتے ہیں کہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نظر سے گزرانا ہی کافی ہوتا ہے لیکن بعض ایسی جنہیں نہ صرف نگل جانا چاہیے بلکہ انہیں ہضم کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ بھٹو خاندان کی چشم و چراغ فاطمہ بھٹو نے بھی ایک ایسی کتاب لکھی ہے جسےآپ شاید نگل تو جائیں لیکن

اسے ہضم کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ سانگز آف بلڈ اینڈ سورڈ یا ’لہو اور تلوار کے گیت‘ کئی ممالک میں ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے ۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی اس کتاب میں اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کی سوانح عمری لکھنے کی کوشش کی ہے اور ان پر لگے دہشتگردی کے الزام سے انہیں بری الذمہ کرانے اور بینظیر بھٹو کو ایک چال باز اور گھناونی شخصیت ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ لیکن اب اس کی نئی کتاب شائع ہوئی ہے اس کتاب میں اس نے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کو ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے پر سراہا ہے۔گلوبل رپورٹ آف کولمبیا کے مطابق فاطمہ بھٹو کی کتاب مشرق میں تیزی سے مغرب کے ثقافتی رجحانات کی طرف تبدیل ہونے پر مبنی ہے۔فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب کا عنوان ’نیو کنگز آف دی ورلڈ ، دی رائس اینڈ رائس آف ایسٹرن پاپ کلچر‘ ہے۔انہوں نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کا تذکرہ کیا ہے جو گزشتہ برسوں میں مغربی ثقافت کے منافی کردار ادا کرتی نظر آئی ہیں۔ اپنی کتاب میں فاطمہ بھٹو نے بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کو ثقافتی تحریک کا علمبردار قرار دے دیا ۔سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے اپنی نئی کتاب میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کو ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے پر سراہا ہے۔انہوں نے شاہ رخ خان، ترکی کے مشہور تاریخ پر مبنی ڈراموں اور جنوبی کوریا کے منفرد میوزک کو جدید ثقافت کی دوڑ میں اپنی ثقافت کی اساس قرار دیا ہے ۔فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب میں اُن افراد کی کاوشوں کو سراہا ہے جنہوں نے اپنی ثقافت کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مغربی ثقافت سے منہ موڑا ۔مصنفہ فاطمہ بھٹو نے شاہ رخ خان کی فلموں ، انٹرویوز کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ شاہ رخ خان اپنی ثقافت کی ترویج کی وجہ سے ہی ایک مشہور فلمی اسٹار ہیں۔انہوں نے ترکی کے سب سے بڑے ٹی وی شو جس کو اردو زبان میں بھی ’میرا سلطان ‘ کے نام سے جیو کہانی پر ڈب کر کے بھی نشر کیا گیا ۔ ایک اندازے کے مطابق ا س ڈرامے کو 43 ممالک میں 200 ملین افراد نے دیکھا۔ اس کا بھی ذکر کیا اور ترکی کے اس مشہور زمانہ ڈرامے کو مغرب ثقافت کی دوڑ میں ایک منفرد نمونہ قرار دیا۔ فاطمہ بھٹو نے بھی یہ دیکھنے کے لیے جنوبی کوریا کا سفر کیا کہ کے-پاپ کا ’گنگنم اسٹائل‘ یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا گانا کیسے بنا ۔فاطمہ بھٹو شاعرہ اور ادیبہ ہیں اور وہ پاکستان امریکا اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔جبکہ 1997ء میں صرف پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہوا تھا۔