ہم نہیں روکیں گے مگر دھرنے والوں کو ہدایت کب اور کہاں سے آنے والی ہے ؟َ ندیم افضل چن نے معنی خیز بات کہہ ڈالی

کراچی (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تو اس پر اپوزیشن کا اتفاق نہیں ہو سکا وہاں حکومت کی طرف سے مارچ کے حوالے سے ملے جلے بیانات سامنے آ رہے ہیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسے سیاسی

حق قرار دیتے ہوئے صرف مولانا فضل الرحمان سے مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہیں تو خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ محمود خان سرے سے مارچ کو طاقت کے زور پر روکنے کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے اسے ’زبردستی کا مارچ‘ قرار دیتے ہیں ۔لیکن اب وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن کا بھی بیان سامنے آیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ میری ذاتی رائے میں دھرنے والوں کو ویلکم کرنا چاہئے، دھرنے والوں سے جمہوری طریقے سے ہی نمٹیں گے، انہیں روکنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں انشاء اللہ ہدایت آجائے گی،پنجاب میں دھرنوں یا لاک ڈاؤن کا کوئی ایشو نہیں ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ بھی شریک تھے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنمالطیف کھوسہ نے کہا کہ احتساب کا عمل عمران خان اور علیمہ بی بی سے شروع کیا جائے، دفعہ 144کے ذریعہ دھرنے یا جلسے جلوس کو روکنا جمہوری طریقہ نہیں ہے، مولانا فضل الرحمن کے اس بیان سے مکمل متفق ہیں کہ حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے، ندیم افضل چن عنقریب ہماری صف میں کھڑے ہوں گے۔حافظ حمد اللہ نے کہا کہ جے یو آئی ف آزادی مارچ کے فیصلے پر یوٹرن نہیں لے گی، اس سسٹم اور حکومت کی رخصتی ہم کریں گے، ہم صرف عمران خان کی نہیں پوری تبدیلی کی تبدیلی چاہتے ہیں، ڈینگی کنٹرول کرنے میں ناکام حکومت مولانا فضل الرحمٰن کو کیسے کنٹرول کرے گی، تاجر حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں تب ہی ہمیں چندہ دے رہے ہیں۔وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نےکہا کہ وزیراعظم کی کرپشن کے خاتمے کی خواہش سے سب متفق ہیں کرپٹ لوگوں کو سسٹم سے نکالنا بہت مشکل کام ہے، عدالتی نظام، بیوروکریسی اور پارلیمنٹ میں اتنی طاقت نہیں کہ اس نظام سے جان چھڑاسکے۔ پارلیمنٹ اس سسٹم کو وقت کے ساتھ اپ گریڈ کرتی رہتی تو آج سیاستدانوں کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کی وجہ یہی نظام ہے، ہر مسئلہ کی بنیاد دیکھیں تو کرپشن ضرور نظر آتی ہے، صرف سیاستدان کرپٹ نہیں ہیں لیکن کرپشن ختم کرنا پارلیمنٹرینز کا کام تھا، میڈیا کو بھی ریگولیٹ کرنے یا اس کی ترقی اور آزادی کے ذمہ دار بھی پارلیمنٹرینز ہیں۔