میں تو عمران خان کے اس بیان کی دھجیاں اڑا سکتا ہوں۔۔۔۔۔ حسن نثار نے جذباتی انداز میں یہ بات کیوں کہہ ڈالی ؟ حیران کن خبر

کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پرکہ لوگوں میں صبر نہیں، ابھی 13 ماہ ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان۔اس پر جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان ابصاء کومل کے پہلے سوال کہ بقول وزیراعظم ابھی تیرہ ماہ ہوئے ہیں، لوگوں میں صبر نہیں، پوچھتے ہیں نیا پاکستان

کہاں ہے، ریاست مدینہ چند دن میں نہیں بن گئی تھی، کیا وزیراعظم کا بیان درست ہے۔ اس پر جواب دیتے ہوۓ حسن نثار نے کہا کہ عمران خان کا یہ عجیب و غریب سا بیان ہے اس کی دھجیاں اڑائی جاسکتی ہیں، اس ملک کے لوگ 72سال سے ذلیل و خوار ہو کر سستے خواب خرید رہے ہیں، اب بھی اگر یہی لوگ بے صبرے اور قصوروار ہیں تو لوگوں کے ساتھ وزیراعظم کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ان سے زیادہ صابر لوگ حالیہ تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتے ہیں، عوام کو بھی کچھ شرم کرنی چاہئے یہ پہلی اور آخری دفعہ اس وقت نکلے تھے جب ایوب خان نے چینی کی قیمتیں بڑھائی تھیں، تب سے اب تک تو لگتا ہے میں قبرستان میں زندہ ہوں، پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنانا تو کھلونے سے کھیلنا جیسا ہے، یہ اللہ سے معافی مانگیں ریاست مدینہ تو غارِ حرا میں پہلے پیغام پر ہی بن گئی تھی۔ اس پر ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عوام کے صبر سے متعلق وزیراعظم کا بیان درست نہیں ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پناہ گاہیں، ہیلتھ کارڈ اور لنگر اچھے اقدامات ہیں لیکن مستقل انتظام ضروری ہے، عمران خان کو 14مہینے میں نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دینی چاہئے تھی، لیکن 14مہینوں میں نئے پاکستان کے سفر کا آغاز بھی نہیں کیا گیا اس لئے لوگوں کی مایوسی بنتی ہے۔محمل سرفراز نے کہا کہ عمران خان شاید بھول گئے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے پہلے انہوں نے کیا کیا وعدے کئے تھے، یہ دعوے کرتے تھے کہ ہم آئیں گے تو تین مہینے ، چھ مہینے اور ایک سال کے اندر کیا کچھ نہیں ہوجائے گا۔