مفادت کی خاطر بڑی منافقت :’’کشمیر کمیٹی کا سربراہ تھا تو کیا کرتا ، حملہ کردیتا۔۔؟؟‘‘ وزیراعظم کے بیان پر مولانا فضل الرحمان آج ہنستے ہوئے کیا کہتے رہے ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم عمران خان کے بھارت پر حملے سے متعلق اپوزیشن سے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے رد عمل دے دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن سے سوال کیا تھا کہ کیا کروں ،کشمیر پر حملہ کردوں ؟،کشمیر کمیٹی کا چیئر مین کیا کرتا ؟حملہ کرتا ؟۔انہوں نے کہا

کہ وزیراعظم ایسی باتیں کرتے ہیں جو سمجھ سے بالا ہیں ۔پریس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کا جانا ناگزیر ہو چکا ،یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی ،ہماری جنگ کا میدان پوراملک ہوگا، سربراہ جے یو آئی(ف)نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے ،پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہاہے،حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائیگی ،صحافی کے سوال ”نوازشریف دور میں تحریک انصاف نے دھرنا دیا تو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عمران خان کو ملاقات کیلئے بلوایا تھا،اگر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے آپ کو ملاقات کیلئے بلایا توکیا آپ ملاقات کریں گے “کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف نے ملاقات کیلئے بلوایاتو ضرورجاوں گا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ دھرنے کا لفظ چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے، پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے، حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی، نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیاہے۔فضل الرحمان نے ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جائز حکومت تشکیل دی جائے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، گرفتاریوں سے اشتعال بڑھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہمارا پہلا پڑاؤ ہوگا، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے جب کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہیں ،کہیں سے مایوسی نہیں، ہر پارٹی کی اپنی حکمت عملی اور ترجیحات ہوتی ہیں، حتمی طور پر سب پارٹیوں نے ساتھ دینے کا کہا ہے، اسلام آباد جانا براہے تو اس کا نام ہی کیوں ایسا رکھا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا، ہمارے مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے، مدرسوں کا ایشو بڑھا کر حکومت بین الاقوامی سپورٹ لینا چاہتی ہے، مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کرکے ہمیں کاؤنٹر کرنےکی کوشش کی گئی۔جے یو آئی کے سربراہ نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے اور ہوسکتا ہےکہ 27 اکتوبر سے پہلے تبدیلی آجائے اور وہ تبدیلی حکومت کے استعفے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔