’’عمران کی جان کو خطرہ۔۔۔ ‘‘ کیا سازشی قوتیں باقی اسلامی لیڈران کی طرح عمران خان کو بھی ہدف بنانے والی ہیں؟سکیورٹی خدشات کے پیش نظروزیر اعظم سے اہم مطالبہ کردیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ کچھ روز پہلے میں شام کے وقت بنی گالہ گیا تو میری وہاں عمران خان سے ملاقات ہوئی۔ بنی گالہ اُس وقت مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا

جس پر میں نے سکیورٹی سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ میں یہیں رہوں گا۔پاکستان کے ادارے جتنی سکیورٹی کر سکتے ہیں اُتنی ہم نے کی ہوئی ہے۔ ڈاکٹرشاہد مسعود نے کہا کہ میں نے سوچا کہ اگر عمران خان وزیراعظم ہاؤس یا کہیں اور رہتے تو وہاں پر یقیناً سکیورٹی بھی زیادہ ہوتی اور لائٹس بھی کافی لگائی جاتیں لیکن بنی گالہ مکمل تاریکی میں تھا ۔ اس قدر تاریکی تھی کہ جہاں پر گاڑی رُکی اور جہاں میری عمران خان سے ملاقات ہوئی تو اُس آدھا میل کے رستے میں سکیورٹی اہلکار ٹارچ کے ذریعے مجھے راستہ دکھاتے ہوئے لے کر جا رہے تھے۔مکمل گھُپ اندھیرا تھا ، آگے گیا تو اندر تھوڑی سی روشنی تھی جہاں وزیراعظم عمران خان بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے سکیورٹی اہلکاروں سے پوچھا کہ کیا آپ اس سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ہم کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں؟ ہمیں تو علم ہی نہیں ہوتا وہ ایک دم سے آ کر کہتے ہیں کہ میں وزیراعظم آفس جا رہا ہوں اور ہم اُن کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ عمران خان بہت ساری قوتوں کا ہدف ہیں اور اس کے لیے اب انہیں اپنی سکیورٹی بڑھانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بڑی قوتیں ہیں اُن کو عمران خان پسند نہیں ہیں۔ وہ جتنی مرضی عمران خان کی آؤ بھگت کر لیں، تعریفیں کر لیں، ساتھ بٹھا لیں لیکن وہ ایک شخصیت کے طور پر اُن کو پسند نہیں کرتے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان جب سے پاکستان میں اقتدار میں آئے ہیں ، عمران خان کے وزیراعظم بننے میں کسی عالمی قوت کا کوئی کردار نہیں رہا، عمران خان کے ساتھ بے شمار ممالک کے صدور اور وزرائےا عظم نظر آئیں گے لیکن اگر ان ممالک کی بیوروکریسی اور میڈیا کے لوگوں سے بات کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ عمران خان کو شدید ناپسند کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پہلے بھارتی میڈیا ان کی تعریفوں کے پُل باندھتا تھا اور اب وہی بھارتی میڈیا ان کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کی سیاست کو چھوڑ کر صرف عمران خان کی ہی بات کر رہا ہے، ایسا رویہ پہلے نہیں تھا۔