جسمانی ریمانڈ کے دوران ، نیب نے شاہد خافان عباسی کو گلاس دے مارا، جیو نیوز کی خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)بے ڈھنگی اور تکلیف دہ صورتحال میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے جسمانی ریمانڈ کے دوران قومی احتساب بیورو کے ایک افسر نے بدسلوکی کی تاہم نیب نے ایسی کسی خبر کو سختی سے مسترد کر دیا۔نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش اور پوچھ گچھ کے دوران تفتیشی ٹیم کا رکن ان پر

چلّایا اور بعدازاں بدسلوکی کی۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ نیب راولپنڈی کے دفتر واقع میلوڈی اسلام آباد میں پیش آیا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ تفتیشی افسر کو پٹرولیم ماہر کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا۔ مذکورہ واقعہ کے وقت یہ افسر سابق وزیراعظم کے جوابات پر مشتعل ہوگیا اور اطلاعات کے مطابق بدسلوکی کے علاوہ گلاس بھی پھینک کر مارا۔دیگر افسران جن میں تفتیشی افسر ایم زبیر شامل تھے۔ انہوں نے صورتحال کو سنبھالا۔ذرائع نے بھی رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس واقعہ کی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کو دے دی گئی ہے۔ایک نیب افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ داخل کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ افسر نے نہیں بلکہ سابق وزیراعظم نے مزاحمت کی۔ اگر یہ بات درست ہے تو کسی سابق وزیراعظم سے بدسلوکی کی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے آمرانہ ادوار میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور نواز شریف سے بھی بدسلوکی ہوئی۔مؤقف جاننے کے لئے جب نیب ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی اور جیو نیوز کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیب کو بدنام کرنے کے لئے جیو نیوز کی بدنیتی پرمبنی مہم ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ نیب ایک پیشہ ورانہ تنظیم ہے۔ انہوں نے جیو نیوز سے کہا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔یاد رہے شاہد خاقان عباسی کوبحیثیت وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل ایل این جی ٹرمینل کا 15 سالہ ٹھیکہ دینے اور ایل این جی کی درآمد میں مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق تحقیقات کے لیے 18 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔نیب اب تک سابق وزیر اعظم کے 14 روز کے چار جسمانی ریمانڈ (اور پانچواں جمعرات کو)حاصل کر چکی ہے۔ پانچویں جسمانی ریمانڈ کے (26ستمبر کو) مکمل ہونے پر عباسی کی نیب حراست میں 70 دن پورے ہو جائیں گے، جو شاید کسی سیاسی رہنما کے ریمانڈ پر نیب کی حراست میں طویل ترین عرصہ ہو گا۔نیب قانون کے تحت کسی ملزم کو زیادہ سے زیادہ 90 روز تک تحویل میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت ایک مرتبہ 14 دن سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ نہیں دیتی۔مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پاکستان سٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق گذشتہ ایک ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔ ان سے بھی ایل این جی ٹرمینل سے متعلق کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔