مراد علی شاہ کی گرفتاری کے حوالے سے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دینے والی خبر آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کے سینیئرصحافی محمد مالک نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گرفتاری سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔ہم نیوز کے پروگرام’بریکنگ پوائنٹ ود مالک‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا مراد علی شاہ کی گرفتاری کا فیصلہ ہوچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اکتوبر 2019 میں گرفتار کرلیا جائے

گا۔قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول پیش گوئی کر چکے ہیں کہ مراد علی شاہ کو سندھ کی حدود سے باہر گرفتار کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو گرفتار کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور قوی امکان ہے کہ گرفتاری جمعہ کے روز ہوگی تاہم انہوں نے تاریخ یا مہینے کا نام نہیں لیا کہ کب ہوگی۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ جیل میں ہوں یا ریل میں وزیراعلی وہی رہیں گے۔خیال رہے کہ قومی احتساب بیورومراد علی شاہ کیخلاف متعدد مقدمات میں تفتیش کر رہا ہے اور انہیں 24 ستمبر کو بھی سوال و جواب کے لیے بلایا گیا ہے۔نیب مراد علی شاہ سے اومنی گروپ کیس، جعلی اکاؤنٹ کیس، ٹھٹھہ اور دادو میں شوگر ملز سے متعلق معاملات میں تفتیش کر رہا ہے۔دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور نیب تحقیقات کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ ہم نیوز کے پروگرام’بریکنگ پوائنٹ ود مالک‘ میں انہوں نے انکشاف کیا آج تک خبریں آرہی تھیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بااثر حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرنے کے لیے ایک دو بار بات کی ہے اب یہ بات کب اور کہاں جا کر ختم ہوگی یہ تو وقت ہی بتائےگا۔محمد مالک نے کہا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب پر با اثر حلقوں کی طرف سے اعتراضات آنا شروع ہو گئے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے وزیراعلیٰ پنجاب کی تبدیلی سے متعلق خبریں گردش کر رہی ہیں تاہم عمران خان نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ذرائع ابلاغ میں چلنے والی خبروں کے مطابق عثمان بزدار متوقع کارکردگی نہیں دکھا سکے اور پنجاب میں گورننس بہتر بنانے کے لیے موجودہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔