حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں ہنگامی آپریشن کروانے کیلئے کمر کس لی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر میں فوری انسانی مدد کے لیے ایمرجنسی آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے حکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے حکام برائے انسانی امور

کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک بحرانی صورتحال پر ان کی توجہ دلانے کی کوشش کی۔وفاقی وزیر نے مقبوضہ وادی میں بوڑھے مرد و خواتین سمیت بچوں کی اموات کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کشمیر میں فوری انسانی مدد کے لیے ایمرجنسی آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔خط میں اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت دوست کاریڈور قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔شیریں مزاری نے خط میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے سنگین بحران جنم لے چکا ہے، وادی کے عوام خوراک، ادویات اور ضروریات زندگی سے محروم ہوچکے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، انسانی حقوق کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ہنگامی اقدامات شروع کیے جائیں۔ ادویات و خوراک کی فوری فراہمی کے لیے کاریڈور قائم کیا جائے۔شیریں مزاری نے خط میں لکھا کہ کاریڈورقائم نہ ہوا تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے، عالمی امدادی اداروں کو خوراک و ادویات کی فراہمی کے لیے رسائی دی جائے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ بھر پور انداز میں اٹھائیں گے ،کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ بن گیاہے ، پوری دنیا ہمارے بیانیے کو تسلیم کررہی ہے ۔جدہ میں مقیم پاکستانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کوفروغ دینا اولین ترجیح ہے،بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے قانونی اصلاحات لا رہے ہیں، سعودی قیادت کوکشمیرکی صورتحال سے آگاہ کرناچاہتا ہوں،ہم نے مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا میں اجاگر کرنا ہے، ئد اعظم جانتے تھے کہ مسلمانوں کوبھارت میں حقوق نہیں ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں ہماری مددکی،کشمیرمیں ہمارے بھائی مشکل صورتحال سے گزررہے ہیں، کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ بن گیا ہے ، پوری دنیا ہمارے بیانیے کو تسلیم کررہی ہے ۔وزیر اعظم کا کہناتھا کہ او آئی سی نے کشمیرکے مسئلے پرہماری حمایت کی ہے، یواین میں کشمیرکامسئلہ بھرپوراندازمیں اٹھائیں گے،ہمیں قرضوں کے بوجھ میں ڈوبی معیشت ورثے میں ملی تھی ، ہر شعبے میں اصلاحات لا رہے ہیں، ہماری حکومت کاروبارمیں آسانیاں پیدا کر رہی ہے ۔