خیبرپختونخوا میں عبایا کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی طالبات کو سزا ملے گی یا نہیں ؟ اعلان ہو گیا

کراچی (ویب ڈیسک)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ عبایا نہ پہننے پر طالبات کو کوئی سزا نہیں ہوگی،یہ اقدام معاشرتی و مذہبی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے،اس کا مقصد بچیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے،ن لیگ کے

سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت بیڈ گورننس اور معاشی بحران کی وجہ سے ایک سال میں ہی کمزور ہوگئی ہے، حکومت کے معاشی منیجرز اچھی خبریں دیتے ہیں لیکن عوام کے پاس انتہائی بری خبریں ہیں، بیڈ گورننس اور بیڈ اکانومی کی وجہ سے حکومت کمزور ہوگئی ہے، اس صورتحال میں کوئی تحریک چلائی جائے تو حکومت وقت سے پہلے گر سکتی ہے،وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کو کچرے سے پاک کرنے کیلئے سنجیدہ ہے، کراچی میں 15سے 16ہزار ٹن کچرا ہوتا ہے، لینڈ فل سائٹ پر 13ہزار ٹن تک کچراپہنچایا جارہا ہے یہ استعداد بڑھائی جائے گی، بیک لاگ میں لاکھوں ٹن کچرا مختلف مقامات پر جمع ہے جسے اٹھایا جارہا ہے، صفائی مہم کے تحت پہلے سے موجود جی ٹی ایس کے ساتھ عارضی گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے، 21ستمبر تا 21اکتوبر کے درمیان کراچی کو صاف کیا جائے گا، ایک ماہ میں کچرا اٹھانے کا کام مکمل نہیں ہوا تو اسے جاری رکھا جائے گا،نمائندہ خصوصی جیو نیوز زاہد گشکوری نے کہا کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں چودہ دن میں ڈرامائی پیشرفت سامنے آئی ہے،میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے واقعات لڑکوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو کیا لڑکوں کیلئے بھی ڈریس کوڈ ہوگا کہ وہ کس قسم کے کپڑے پہن سکتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں طالبات پر چادر یا عبایا پہننے کے نوٹیفکیشن کو میڈیا پر کسی

اور رخ سے پیش کیا جارہا ہے، طالبات کو گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر تک کے راستے میں عبایا،چادر یا برقعہ پہننے کیلئے کہا گیا ہے، عبایا نہ پہننے پر طالبات کو کوئی سزا نہیں ہوگی، یہ اقدام معاشرتی و مذہبی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے،اس کا مقصد بچیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے،ہم اپنا فیصلہ نافذ نہیں کررہے بلکہ طالبا ت کوآپشنز دیئے ہیں چادر پہنیں یا عبایا لیکن خود کو کور رکھیں۔ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ طالبات کو تحفظ دینے کیلئے مرد و خواتین ڈی ای اوز کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا ہے، بچوں کو کیسے تحفظ دینا ہے اس کیلئے بھی طریقہ کار پر غور کریں گے، ہماری ذمہ داری ہے کہ کس طرح بچوں اور بچیوں کو تحفظ دیتے ہیں،لڑکیوں کے اسکول جن علاقوں میں ہیں وہاں مقامی پولیس سے بھی مدد لی ہے،بچیوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعات ہوئے تھے جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا،بچیوں کو باپردہ رکھیں گے تو بچیوں کے ساتھ والدین کو بھی ذہنی سکون ہوگا،خیبرپختونخوا حکومت بچیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ فوکس کررہی ہے۔میزبان شاہزیب خانزادہ کے سوالات کے جواب دینے میں ناکامی کے بعد ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ آپ پردے اور اسلامی اقدار کی بے عزتی کررہے ہیں تو آپ کی بات ہے ہم نے جو فیصلہ کیا اس پر قائم ہیں،جس کے جواب میں میزبان شاہزیب خانزادہ کا کہناتھا کہ میں پردے یا اسلامی اقدار پر سوال نہیں اٹھارہا،کل اگر کوئی حکومت حجاب پر پابندی لگادے گی تو ہم یہاں پر اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ سوال اٹھارہے ہوں گے کیونکہ یہ والدین کا کسی انسان کا ذاتی طور پر ہے، ریاست کا حق نہیں ہے کہ وہ زبردستی کرے یا جبر کرے نہ ہی مذہب میں ہے کہ آپ زبردستی اور جبر کے ریاست کے شہریوں کو، چھوٹی چھوٹی بچیوں کو مجبور کریں کہ انہیں کیا پہننا ہے اور کیا نہیں پہننا ہے یہ آپ کا اختیار نہیں ہیں۔