معاشی صورتحال میں بہتری چاہئے تو خان صاحب کو یہ دوکام کرنے ہی ہونگےورنہ۔۔۔ آئی ایم ایف نے واضح کردیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) آئی ایم ایف ترجمان جیری رائس نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو اپنے قرضے کم کر نے اور سماجی و ترقیاتی اخراجات کو بڑھانا ہے، آئی ایم ایف کے ڈپٹی ایم ڈی ڈیوڈ لپٹن نے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے یہ تجاویز رکھی تھیں،آئی ایم ایف ٹیم آئندہ

چند روز میں پاکستان پہنچے گی۔ میڈیا سے بات چیت کے دور ان آئی ایم ایف ترجمان نے عالمی معاشی صورتحال پر میڈیا کے سوالات کے جوابات دیئے۔ صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے کیلئےسبسڈیز اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کرسکتا ہے؟ جیری رائس نے کہاکہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد مقامی ٹیکس آمدن بڑھانا ہے،آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو اپنے قرضے کم کرنے ہیں،اس پروگرام کے تحت سماجی اور ترقیاتی اخراجات کو بڑھانا ہے۔جیری رائس نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ڈپٹی ایم ڈی ڈیوڈ لپٹن نے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے یہ تجاویز رکھی تھیں۔جیری رائس نے کہاکہ آئی ایم ایف ٹیم آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچے گی،آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر جیہاد آزور جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق بحریہ ٹاﺅن کے بانی ملک ریاض کی طرف سے انگریزی اخبار ’ڈیلی ڈان‘ کو مبینہ طور پر منفی پراپیگنڈے پر مبنی آرٹیکل شائع کرنے پر تیسرا قانونی نوٹس بھجوا دیاگیا ہے، جس میں اخبار سے کھلے عام معافی مانگنے اور 5ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈیلی ڈان میں یہ آرٹیکل ’ Bahria Town & others: Greed unbound‘ کے عنوان سے شائع ہوا جو اخبار سے وابستہ صحافی نازیہ سید علی نے لکھا تھا۔اس آرٹیکل میں بتایا گیا کہ کس طرح بحریہ ٹاﺅن کے گردونواح میں بسنے والے اہل دیہہ سراسیمگی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنی زمینوں پر قبضے کا خوف لاحق ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس آرٹیکل

میں ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن پر کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے اور سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ کس طرح بحریہ ٹاﺅن انتہائی تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے اورجامشورو ،ملیر اور دیگر علاقوں کی سرسبز زمین ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اسی نوعیت کا ایک آرٹیکل ڈیلی ڈان نے 18اپریل 2016ءکو بھی شائع کیا تھا۔اس آرٹیکل کے خلاف ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے ڈیلی ڈان کو بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں موجود بحریہ ٹاﺅنز کے اردگرد موجود دیہاتوں میں بسنے والے لوگوں نے کبھی بحریہ ٹاﺅن کے خلاف متعلقہ حکام کو کوئی شکایت نہیں کی۔اس آرٹیکل میں ان لوگوں سے متعلق فرضی باتیں بیان کرکے خوف کی فضاءقائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس آرٹیکل میں ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن سے ملحق حلقوں سے جیتنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا گٹھ جوڑ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس کے علاوہ بحریہ ٹاﺅن کے مالک کا راو انوار کے ساتھ بھی تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جس کی ملک ریاض نے سختی سے مذمت کی اور راﺅ انوار کے ساتھ جوڑے گئے اپنے تعلق کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔ اخبارنے ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن کے متعلق مجرمانہ اور غیرپیشہ وارانہ روئیے کا مظاہرہ کیا اور ہتک آمیز آرٹیکل شائع کیا اور اس کے ذریعے ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس آرٹیکل سے بحریہ ٹاﺅن کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی جو کہ انتہائی غیراخلاقی اور مجرمانہ فعل تھا۔قانونی نوٹس میں ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈیلی ڈان ان سے متعلق تمام ہتک آمیز اور منفی پراپیگنڈہ پر مبنی مہم فوری بند کرے اور یہ نوٹس موصول ہونے کے 7دن کے اندر ان سے غیرمشروط معافی مانگے اور اس آرٹیکل کے ذریعے ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی کے لیے 5ارب روپے کا ہرجانہ ادا کرے۔ اگر اخبار مقررہ مدت کے اندر مطالبات پورے نہیں کرتا تو ملک ریاض اور بحریہ ٹاﺅن ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔