ٹھیک ہے میں سیاست چھوڑ دیتا ہوں مگر ۔۔۔۔ میاں نواز شریف مان گئے ، ایک شرط پر سب کچھ چھوڑ دینے کی حامی بھر لی

لاہور (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار صابر شاکر نے کہا کہ یہ جو بات ہو رہی ہے کہ 2020ء الیکشن کا سال ہے اور اگر 2020ء میں الیکشن روکے گئے تو ہم سب کے لیے پرویز رشید صاحب دعا کر رہے ہیں۔

اصل بات یہ نہیں ہے ، بات یہ ہے کہ یہ ایک ڈیل کرنا چاہ رہے ہیں۔ وہ تیار ہیں کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور سیاست میں حصہ نہیں لیں گے اور انتخابات نہیں لڑیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر نواز شریف چاہتے کیا ہیں؟ جنرل وحید کاکڑ آرمی چیف تھے اُن کے زمانے میں نواز شریف اور اسحاق خان کا پھڈا ہو گیا ، نواز شریف وزیراعظم تھے جبکہ اسحاق خان صدر تھے۔ نواز شریف نے ایک تقریر کی تھی کہ نہ استعفیٰ دوں گا ، نہ اسمبلیاں توڑوں گا اور نہ ہی کسی کی ڈکٹیشن لوں گا۔پھر اسحاق خان نے اسمبلی توڑ دی وہ چیلنج ہوئی۔ جسٹس نسیم حسن کے سربراہی میں ایک فل بینچ نے سماعت کی اور اسمبلیاں بحال کر دیں لیکن یہ لڑائی چلتی رہی تھی۔ اور معاملہ جنرل وحید کاکڑ کے پاس چلا گیا وہ ثالثی کے لیے آئے جس پر نواز شریف نے کہا کہ ٹھیک ہے کہ میں استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہوں لیکن پھر اسحاق خان بھی ایوان صدر میں نظر نہیں آنے چاہئیں۔ اور یہ شرط مان لی گئی تھی اور صدر اسحاق خان قبل از وقت چھٹی لے کر گھر چلے گئے تھے اور دوبارہ ایوان صدر نہیں آئے تھے ۔ نواز شریف نے اسمبلیاں توڑ دی تھیں اور دوبارہ انتخابات ہوئے تھے۔اس وقت بھی نواز شریف نے یہی شرط رکھی ہے کہ پھر آپ عمران خان کو بھی گھر بھیج دیں اور نئے انتخابات کروا دیں، اگر نئے انتخابات نہیں کروانے تو پھر پم پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اِن ہاؤس تبدیلی لے آتے ہیں۔ وہ عمران خان کو اس ڈیل میں ہٹانا چاہتے ہیں۔ اس فارمولے میں کہیں نہ کہیں پیپلز پارٹی بھی شامل ہے کیونکہ جو اُن کے صوبائی وزیر منظور وسان جو خواب دیکھتے ہیں وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اگلا سال عمران خان کا نہیں ہے۔ پروگرام میں موجود چوہدری غلام حسین نے کہا کہ ملک میں ایسی کون سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ دوبارہ الیکشن کروائے جائیں اور عمران خان کو گھر بھیجا جائے۔