عثمان بزدار کو ہٹا دو تو ۔۔۔۔۔ عمران خان کو یہ مشورہ کس طاقت نے دیا تھا مگر کپتان پھر بھی نہ مانا ۔۔۔۔ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کارحامد میر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے ساتھیوں کے علاوہ کچھ مقتدر حلقوں نے بھی وزیراعظم عمران خان سے کہا تھا کہ عثمان بزدار کو ہٹا دیں کیونکہ ان سے صوبہ نہیں چل رہا لیکن عمران خان نے ان کی بھی نہیں سنی ۔ جیونیوز کے

پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جب اسدعمر کو وزارت خزانہ سے ہٹایا گیا تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ کچھ دنوں میں عثمان بزدار کو بھی ہٹا دیا جائے گا جب یہ تجویز عمران خان کے سامنے رکھی گئی تو عمران خان نے صاف انکار کردیا جس سے مجھے پتہ چلا کہ عمران خان کو جو کٹھ پتلی کہا جاتا ہے وہ درست نہیں ہے ۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھیوں کے علاوہ کچھ مقتدر حلقوں نے بھی عمران خان سے کہا تھا کہ عثمان بزدار کو ہٹا دیں کیونکہ ان سے صوبہ نہیں چل رہا لیکن عمران خان نے ان کی بھی نہیں سنی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ پنجاب میں ایک مسئلہ ہے کہ تحریک انصاف میں پنجاب میں بہت سے گروپ ہیں ، اگر عمران خان کسی ایک گروپ کا وزیر اعلیٰ لاتے ہیں تو دوسرا گروپ ناراض ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ پرویز الہٰی بھی عثمان بزدار کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ عثمان بزدار کی نہ ہٹانے کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان تحریک انصاف کو گروپنگ سے بچانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے ایک اور بات کی ہے کہ چھ ماہ یا ایک سال کے بعد میڈیا عثمان بزدار کے گن گانا شروع کردے گا ۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سینئر تجزیہ کارمجیب الرحمان شامی نے کہاہے کہ عثمان بزدار پہلے سے بہتر ہوئے ہیں، اب ان سے بات چیت بھی کی جاسکتی ہے اور وہ جملوں کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ عثمان بزدار کے حوالے سے عمران خان کا پیغام بڑا واضح ہے اس کوضدکہیں یا ان کی انا کہاجائے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کوعثمان بزدار جیسا وزیر اعلیٰ نہیں مل سکتا ، پنجاب میں عملی طور پر مرکز کی حکومت ہے ، عثمان بزدار بہت وفادار وزیر اعلیٰ ہیں اور ہر کام میں مرکز کی طرف دیکھتے ہیں، عمران خان پنجاب سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔