’’ثاقب نثار کے بچھائے ہوئے کانٹوں سے۔۔۔۔‘‘ نوازشریف کی رہائی کیسے ممکن ہو رہی ہے ؟ سلیم صافی نے حیران کن پیشگوئی کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کار سلیم صافی نے کہاہے کہ اس وقت جو ملک میں عدالتی انتشار پھیلا ہوا ہے ، وہ بابا رحمتے کی کاوشوں کانتیجہ ہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ وہ ملک میں بھی نہیں رہ سکتے ۔جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ

افتخار چودھری کو ملکی تاریخ میں سے نادر موقع ملا تھا عدلیہ میں اصلاحات کرنے کا کیونکہ پوری قوم ان کی پشت پر تھی لیکن انہوں نے اس کو جوڈیشل ایکٹوازم ، سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لانے اور ذاتی اناءکی تسکین کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو ملک میں عدالتی انتشار پھیلا ہوا ہے ، وہ بابا رحمتے کی کاوشوں کانتیجہ ہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ وہ ملک میں بھی نہیں رہ سکتے ۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار کے بچھائے ہوئے کانٹے موجودہ عدلیہ کو اپنی پلکوں سے چننے پڑرہے ہیں، ثاقب نثار جیسے لوگوں کوشوق تھا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں لے آئیں اور سیاستد انوں نے بھی غلط کام کیا ۔ سلیم صافی نے کہا کہ عدلیہ اگر اپنا کام کرے تو یہ بہت غنیمت ہوگی اور موجودہ چیف جسٹس نے اس پر توجہ دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے جوبات کی ہے کہ احتساب کے یکطرفہ ہونے کا تاثر آرہاہے ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معاملہ کہاںتک پہنچتاہے؟چیف جسٹس نے احتساب کے بارے میں جورائے دی ہے ، وہ رائے عدالتو ں کے بارے میں بھی بن رہی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیر خارجہ اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے نواز شریف کے بطور وزیر اعظم پارلیمنٹ میں نہ آنے کو غلطی قرار دے دیا۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ڈیل سے متعلق میرے علم میں کوئی بات نہیں ہے ، شہباز شریف سے ملاقات ہوتی ہے اور وہی نواز شریف سے ملتے ہیں، مریم نواز کی خاموشی میں مصلحت کا پہلو ضرور شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اعظم نواز شریف کا پارلیمنٹ میں نہ آنا غلطی تھی، پارلیمنٹ کے تقدس کیلئے جس سے بھی بات کرنی ہوگی کریں گے، حالات کو بہتر کرنے کیلئے نئے سوشل کنٹریکٹس کی ضرورت ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اے پی سی کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد لاک ڈاﺅن کے بارے میں بات ہوئی تھی، کل میٹنگ میں شہباز شریف سے فضل الرحمان کے بیان کے بارے میں پوچھیں گے۔