مزہ تو تب ہے اگرچیف جسٹس قسم اٹھائیں کہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔۔۔ “تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے حیران کن بات کہہ دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہاہے کہ جہاں سپریم کورٹ کی جانب سے دھڑا دھڑ ازخود نوٹس بھی نہیں لینے چاہئے وہاںچیف جسٹس کی جانب سے قسم بھی نہیں اٹھا لینی چاہئے کہ ازخود نوٹس نہیں لوں گا ۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب

سے عرض ہے کہ بلاشہ آپ کا کیئریر کمال کا کیئریر ہے ، آپ نے چند ماہ میں دھڑا دھڑ مقدمات نپٹائے ہیں ، ماڈل کورٹس کے قیام پر کام کیاہے اور آن لائن مقدمات بھی سنیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں سپریم کورٹ کی جانب سے دھڑا دھڑ ازخود نوٹس بھی نہیں لینے چاہئے وہاںقسم بھی نہیں اٹھا لینی چاہئے کہ ازخود نوٹس نہیں لوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سوچیں کہ اگر ازخود نوٹس نہ لئے جاتے تو پانامہ کے10 والیم اور بلاول کے کتوں کی خوراکیں سامنے آتیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کوازخود نوٹس لیناچاہئے اور سانحہ ساہیوال پر از خود نوٹس لینا چاہئے تھا ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ فریال تالپور اور آصف زرداری کو اگر کچھ ہوا تو وزیر اعلی پنجاب ذمہ دار ہوں گے، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو پنڈی میں شہید کیا گیا، ملک اب روالپنڈی میں ایسا کوئی سانحہ برداشت نہیں کر سکتا،آج میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ وہ کون ساتھانہ ہے جہاں ایس ایچ او ایم پی ایز ،ایم این ایز اور حکمران جماعت کی مرضی سےنہیں لگے ؟حکمرانوں کے پولیس ریفارم کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،پولیس حکمرانوں کی نہیں ریاست کی ملازم بنے۔ پیپلز پارٹی لاہور آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نےکہا کہموجودہ حکومت کا فسطائی رویہ دن بدن بڑھتا جا رہا اور اس میں شدت آ رہی ہے،حکومت کا اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے اور زہریلے پراپیگنڈے کر کے،مقدمات بنا کر ،جھوٹے دعوے اور وعدے کر کے آئین کو پامال کرکے ،پارلیمان کو بے وقعت کر کے ملک کو شخصی حاکمیت کی طرف لے جانے والا رویہ وفاق کیلئے خطرناک ہے،فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گیے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا،آصف زرداری کو علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے،حکومت پنجاب کو خط لکھ رہے ہیں کہ اگر آصف اور فریال کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعلی پنجاب ہوں گے۔قمر زمان کائرہ نےکہا کہ پورے ملک میں لا انفورسمنٹ ایجنسیز کے رویوں میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے ،المیہ یہ ہے کہ جس ملک کا حکمران اپنے مخالف کو دیکھنا پسند نہیں کرتا ،اس سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا ،جس کے وزیر گالیاں دے کر باتیں کرتے ہیں،اگر حکمران جماعت یہ رویہ اختیار کرتی ہے تو پھر سماج کیا کرے گا؟وہاں بھی پھر ایسے ہی رویے پنپیں گے ،اگر ماضی میں کچھ بہتری آئی تھی اور آج پھر خرابی ہوئی ہے تو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے