’’ کم از کم موت تو عزت کی ہونی چاہیئے۔۔۔‘‘ حامد میر اور ارشاد بھٹی آمنے سامنے آگئے، سینئر صحافیوں کی لفظی جنگ دیکھ کر پاکستانی بھی کنفیوژ ہوگئے

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ روز قبل نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صاٹفی حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ارباب اختیار اس وقت پاکستان میں تبدیلی کا سوچ رہے ہیں، ارباب اختیار کی جانب سے شریف خاندان کے کچھ افراد سے رابطے بھی کیے گئے ہیں اور

کہاں گیا کہ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے لہذا ہم لوگ اس کا خمیازہ بھگتنے کو تیار ہیں اور ساتھ ہی پاکستان میں ان ہاؤس تبدیلی بھی لائی جاسکتی، حامد میر کا کہنا تھا کہ آئندہ تین مہینے پاکستانی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہونگے حامد میر کے مطابق شریف فیملی کے فرد فرد سے رابطہ ہورہا ہے اور انہیں کمپنسیٹ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، اس وقت پاکستان سیاست میں ڈبل نہیں بلکہ ٹرپل گیم چل رہی ہے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوجائے، حامد میر کے ان انکشافات پر سینئر صحافی ارشاد بھٹی بھی میدان میں آگئے اور ناقابلِ یقین رد عمل دے ڈالا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حامد میر کے انکشافات پر رد عمل دیتے ہوئے ارشاد بھٹی کی جانب سے سماجی راببطوں کی ویب سائٹ توئٹر پر ایک پیغام چھوڑا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ اگر اتنےکچھ کےبعد بھی اربابِ اختیار کی نظر میں شریف خاندان،اسحٰق ڈار معصوم ہیں اور اگر اتنا کچھ بھگتنےکےبعد بھی اربابِ اختیار شریف خاندان اور اسحٰق ڈار سے معافی مانگ رہےہیں تو پھر ہمیں کشمیر جہاد پر چلے جانا چاہئیے کم از کم موت تو باعزت ہو‘‘۔