بلاول بھٹو ناراض ۔۔۔۔ بینظیر بھٹو کا بیٹا اچانک بیرون ملک کیوں روانہ ہو گیا ؟ اندر کی خبر آگئی

کراچی (ویب ڈیسک ) بلاول بھٹو امارات ایئرلائن کی پرواز سے دبئی روانہ ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں پیپلزپارٹی میں الگ گروپ بننے پر بلاول بھٹو سخت پریشان تھے اور انہوں نے گزشتہ 3 روز سے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان سندھ اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کر رکھی تھیں ،لیکن بلاول بھٹو

ایم پی ایز سے ملاقاتیں ادھوری چھوڑ کر دبئی روانہ ہوگئے ۔ بلاول سے ملاقاتوں کے دوران وزیراعلیٰ سندھ بھی موجود تھے ۔ ارکان صوبائی اسمبلی نے بلاول سے علاقوں میں ترقیاتی کام نہ ہونے ، حلقے کے افسران کی جانب سے بات نہ سننے اور صوبائی وزرا کی جانب سے اہمیت نہ دینے کی شکایات کی تھیں۔ذرائع کے مطابق ہفتے کو بھی کچھ ایم پی ایز سے بلاول کی ملاقاتیں طے تھیں لیکن انہیں منع کر دیا گیا کہ بلاول بھٹو دبئی روانہ ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول کی دبئی میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ یاد رہے کہ سینئر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے استعفیٰ کے بعد پیپلز پارٹی کے حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ناصر حسین شاہ نے محض گھوٹکی کے ضمنی انتخاب کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دیا ہے۔اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گرفتاری کے پیش نظر سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے فارورڈ بلاک کے قیام کے لئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔ نصف درجن ارکان سندھ اسمبلی کے فارورڈ بلاک بنانے کے لئے متحرک ہونے کی خبروں کے بعد پارٹی قیادت نے ان ارکان کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے جبکہ سندھ کابینہ میں بھی آئندہ چند روز میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کے قیام کے لئے سات سے

آٹھ ارکان متحرک ہوگئے ہیں، یہ ارکان پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کے ذریعہ دیگر ارکان سندھ اسمبلی کے ساتھ بھی رابطے کررہے تھے، پیپلزپارٹی کے ان ارکان کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بھی رابطے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض ارکان سندھ اسمبلی نے فارورڈ بلاک کی خبریں اپنی پارٹی قیادت کو دیں تھیں، جس کے بعد پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے گروپ بندی کے منصوبے پر کام کرنیوالے رہنماؤں کو تنبیہ کی کہ اگر انہوں نے پارٹی میں گروپ بندی کی کوشش کی تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں گروپ بندی میں ملوث پیپلز پارٹی کے ایسے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے جبکہ سندھ کابینہ میں بھی ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کابینہ کے بعض وزراء کے محکمے تبدیل اور کچھ سے واپس لے لئے جائیں گے۔ ادھر بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کے پیش نظر پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی کے رابطوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی منگل کو سندھ اسمبلی پہنچنے جہاں انہوں نے فریال تالپور سے ملاقات کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے استعفیٰ کے بعد پیپلز پارٹی کے حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ناصر حسین شاہ نے محض گھوٹکی کے ضمنی انتخاب کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سید ناصر حسین شاہ کا نام سندھ کے آئندہ وزیراعلیٰ کے طور پر بھی لیا جارہا تھا، تاہم ان کے اچانک استعفیٰ نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو حیران کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ کی سیاست میں آئندہ چند روز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس دوران انتہائی اہم تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔