جج ویڈیو اسکینڈل : سپریم کورٹ کے فیصلے کی ایک خاص بات کیا ہے ؟ سینئر قانون دان نے حیران کن بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر وکلاء کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے معطل جج ارشد ملک کے ویڈیوسیکنڈل کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ ہے۔ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبد الرحمن، لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر مسعود چشتی ،ہائی کورٹ بار کے سینئر رکن ظفر اقبال

نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت اسلام آباد کے سابق جج ارشد ملک کے متعلق مقدمہ میں سات نقاط کا جائزہ ایک انتہائی محتاط آئینی اور قانونی نقطہ سے کیا ہے جس سے ایک طرف نواز شریف کی سزا سے متعلق مقدمہ کے میرٹ پر رائے زنی نہ کی گئی ہے تو دوسری طرف اس بات کا بھی فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ آڈیو ویڈیو کی بابت کیا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے اس کی قانونی حیثیت کیا ہو گی اور اس بابت فیصلہ کون کرے گا۔ یہ فیصلہ عدالتی تاریخ کا ایک منفرد فیصلہ ہے جس میں ایک ماتحت عدالت کے جج کی آڈیو ویڈیو ، اس کی تردید اور بیان حلفی پر غور کیا گیا ہے عدالت عظمیٰ نے اپنی قانونی رائے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں کرتے ہوئے تمام درخواستوں کو نبٹایا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق وڈیو کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں آڈیو ٹیپ اور وڈیو کو عدالت میں ثابت کرنے کے لئے 21 شرائط پوری کرنی ہوں گی۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہیں شہادت کے حصول کے لئے جال تو نہیں پھیلایا گیا؟ احتساب عدالت کے معطل جج ارشد ملک کے بارے میں فیصلے میں سپریم کورٹ نے کئی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا ہے۔ جن میں آڈیو یا وڈیو کو مخصوص حالات میں شہادت کے طور پر زیر غور لایا گیا یا سماعت کے لئے داخل کر لیا گیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے تین رکنی بنچ کی تحریر کردہ رولنگ میں ایسے 17 عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے گئے۔ 5 عدالتی فیصلے ایسے ہیں جن میں آڈیو یا ویڈیو ٹیپ شہادت کے طور پر استعمال میں لائی گئیں جبکہ 12 مقدمات میں ویڈیو ریکارڈنگ یا فوٹیج کو بروئے کار لانے کا رولنگ میں حوالہ دیا گیا۔ ایک شرط یہ بھی ہے کہ آڈیو یا وڈیو ٹیپ کی ریکارڈنگ متعلقہ شخص کی ذمہ داریوں میں تو نہیں آئی؟ یا اس کا مقصد جھانسے کا جال پھیلانا تو نہیں؟ ایک اور شرط یہ ہے کہ جب تک متعلقہ ٹیپ کا اصلی ہونا ثابت نہ ہو جائے اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کی فارنسک سائنس ایجنسی کی جانب سے رپورٹ تیار کی گئی۔ قانون شہادت 1984 کے آرٹیکل 164 کے تحت یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ آڈیو یاوڈیو کے ذریعے پیش کردہ شہادت کو قبول کرے یا نہ کرے۔جو شخص وڈیو یا آڈیو کی ریکارڈنگ کر رہا ہو ضروری ہے وہ اس میں ریکارڈ آواز کو بخوبی شناخت کرے۔ ریکارڈنگ کے وقت موجود شخص بھی یہ شناخت کرسکتا ہے۔ ریکارڈ شدہ ٹیپ کا ذریعہ بھی بتانا ہوگا۔ اگر ٹیپ عدالتی کارروائی کے آخری مراحل میں پیش کی جائے تو مشکوک تصور ہوگی جسے زیر سماعت لانے کے لئے رسمی درخواست دینا ہوگی۔(ش س م)