وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کی ترجمانی کی حق ادا کر دیا ، لاکھوں کشمیریوں کے دل جیت لیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کی آواز بنتے ہوئے پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں مذہب وعقائد کی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد کا دن ہے، دنیا کی توجہ بھارتی جارحیت کا شکارکشمیریوں کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق

عمران خان کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ عالمی برادری کومقبوضہ کشمیرمیں بھارتی بربریت کا نوٹس لینا چاہیے، کشمیری تمام بنیادی حقوق اورآزادی سے محروم ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیرپرناجائزقبضہ کیا ہوا ہے، بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں سے عبادت کا حق بھی چھین لیا ہے، عیدالاضحیٰ پرکشمیریوں کونمازپڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، آج دنیا مذہبی بنیاد پر تشدد کا شکار افراد سے اظہاریکجہتی کررہی ہے، دنیا کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف ٹھوس لائحہ عمل دے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ بننے والوں کے پہلے عالمی دن کے موقع پر ہم دنیا کی توجہ لاکھوں کشمیریوں کی جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں ، جنہیں تشدد اور بدسلوکی کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیرمیں ممکنہ قتل عام کوروکنے کے لیے بھی آگے آنا چاہیے. تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا آج مذہب کی بنیادپرتشددکانشانہ بننے والوں کا پہلا عالمی دن ہے، آج کے دن ہم دنیا کی توجہ بھارت کے جبرواستبداد میں گھرے لاکھوں کشمیریوں کی جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں جنہیں توہین و تشدد کا سامنا ہے اور ان کے بنیادی حقوق اورآزادی سے محروم رکھا گیا ہے. عمران خان نے کہا کہ قابض بھارتی افواج نے کشمیریوں کوعیدالاضحی اورمذہبی رسومات کی ادائیگی سے محروم رکھا، دنیا مذہب اورعقیدے کی بنیاد پرتشدد کا شکارافراد سے اظہاریکجہتی کررہی ہے، اسے مقبوضہ کشمیرمیں ممکنہ قتل عام کوروکنے کے لیے بھی آگے آنا چاہیے. علاوہ ازیں امریکی جریدے نیویارک ٹائمزسے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان،

بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے‘ عمران خان نے ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے امکان کو رد کیا جبکہ ان کی بھارت کے خلاف تنقید میں مزید شدت آگئی. انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اس وقت نئی دہلی میں جو حکومت ہے وہ جرمنی کے نازیوں جیسی ہی ہے‘ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے‘انہوں نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے دنیا کو اس صورتحال سے خبردار رہنا چاہیے. وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں نسل کشی ہونے والی ہے.انٹرویو میں انہوں نے باور کروایا کہ اپنے دورہ امریکا کے دوران انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطے کی انتہائی تباہ کن صورتحال کے خدشے سے آگاہ کردیا. بھارت کی ہٹ دھرمی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت نے میری باتوں کو محض اطمینان کے لیے لیا، پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کرسکتا. دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدام، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں. وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں نسل کشی کر سکتا ہے‘انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے اپنے مبصر مقبوضہ کشمیر بھیجے.