پاکستان بھارت سے کن امراض میں استعمال ہونیوالی ادویات خریدتا ہے ؟ اہم رپورٹ سامنے آ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صحت کو بتایا گیا ہے کہ کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین سمیت 160 سے زائد ادویات بھارت سے درآمد کی جاتی ہیں،ہم بھارت سے حالت جنگ میں ہیں اور دوسری جانب اسے اربوں روپے کا فائدہ دے رہے ہیں۔ نجی اخبار جنگ نیوز کی رپورٹ کے

مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افرادٹی بی مرض کا شکار ہیں، پاکستان کا شمار ٹی بی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے، ملک میں سالانہ 5 لاکھ 25 ہزار ٹی بی کے نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ سالانہ ٹی بی کے مرض سے 54 ہزار لوگ مر جاتے ہیں،کمیٹی نے ٹی بی سمیت مختلف ادویات کی بھارت سے درآمد پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ہر فارماسیوٹیکل کمپنی کو کم از کم 5 فیصد ٹی بی اور دیگر امراض کی ادویات کی تیاری خود کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے اجلاس میں سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میرے پاس اس بات کی معتبر معلومات موجود ہیں کہ بھارت ہمیں جو ادویات بھجوارہا ہے اس کی میعاد کچھ ماہ قبل پوری ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے اور اس کی فوج مقبوضہ وادی میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے لیکن ہم بھارت سے ادویات درآمد کررہے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم ہونے پر ایک طرف جہاں شعبہ صحت کے اسٹیک ہولڈرز اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ادویات غائب ہونے سے کئی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی وہیں دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی میں یہ تجویز پیش کر دی گئی ہے کہ بھارت سے ادویات اور خام مال کی درآمد پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہئیے جس کی وجہ سینیٹر رحمان

کے انکشافات کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہےکہ سینیٹر رحمان ملک اس پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں تھے لیکن وہ بھارتی ادویات کے میعار کے حوالے سے اپنے سوالات کا جواب لینے کے لیے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان نے احتجاجاً بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات ختم کر دئے تھے۔ 9 اگست کو وزارت تجارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک حکم نامے (ایس آر او) کے ذریعے بھارت کے ساتھ تجارت روک دی تھی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق بھارت نے آبی جارحیت کا ایک اور منصوبہ بنا لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی وزیر گیجندرا سنگھ شیکھاوت نے پاکستان کو سپلائی کیا جانے والا پانی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارتی وزیر گیجندرا سنگھ شیکھاوت نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ طاس معاہدے کو نہیں چھیڑیں گے لیکن جو ہمارے حق کا پانی ہے وہ ہم واپس لے لیں گے تاکہ ہم اس نے اپنی وزراعت اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے ، ہم کسی معاہدے کو نہیں چھیڑیں گے لیکن جو ہمارا حق ہے وہ ہم کسی کو نہیں دیں گے اور اس حوالے سے ریسرچ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور خود ہی استعمال کریں گے۔ سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ایسے دریا ہیں جو پاکستان میں موجود دریاؤں سے جا کر ملتے ہیں اور جن کے حوالے سے کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے لہٰذا وہاں کا پانی ہم اپنے پاس ہی رکھیں گے۔