سر : آپ کا پسندیدہ ترین آرمی چیف کون رہا ہے ؟ رؤف کلاسرا کے اس سوال کا قمر جاوید باجوہ نے کیا جواب دیا تھا ؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئیر صحافی رؤف کلاسرا نے بتایا ہے کہ انہوں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایک ملاقات کے دوران سوال کیا تھا کہ آپ کا پسندیدہ ترین سابق آرمی چیف کون سا ہے؟ جس پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے مسکراتے ہوئے عبدالوحید کاکڑ کی تصویر پہ انگلی رکھ دی۔

راؤف کلاسرا نے بتایا کہ ایک بار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران انہوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کاپسندیدہ ترین سابق آرمی چیف کون سا ہے تو انہوں نے ایسے عبدالوحید کاکڑ کی تصویر پر انگلی رکھ دی۔ راؤف کلاسرا نے بتایا کہ عبدالوحید کاکڑ ایسے آرمی چیف تھے کہ انہوں نے مدتِ ملازمت پوری ہونے پر اس واقت کی وزیراعظم بے نظیر کی ضد کے باوجود مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں لی تھی۔ سینئیر صحافی نے بتایا کہ عبدالوحید کاکڑ ایسے آرمی چیف رہے ہیں کہ ان سے امریکہ بھی خوش تھا اور بے نظیر بھی، انہوں نے بے نظیر کے خلاف بنائی جانے والی سازشوں سے بے ںظیر کو باخبر بھی رکھا تھا اور اپنا عہدہ بھی بخوبی سنبھالا تھا۔ بے نظیر نے ان سے بہت زیادہ ضد کی کہ وہ مدتِ ملازمت میں توسیع لے لیں لیکن ناہوں نے انکار کر دیا اور آج بھی جب کوئی نیا آرمی چیف بنتا ہے تو سب سے پہلے عبدالوحید کاکڑ کو ملنے جاتا ہے تاکہ ان سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ خیال رہے کہ ہ آج جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ مزید تین سال کے لیے آرمی چیف کے عہدے پر مقرر رہیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2019ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے تھے لیکن اب ان کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے جس کے تحت جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022ء تک

چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔اس سے پہلے ہمیشہ کہا جاتا رہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کی جائے گی اور وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ڈی جی آئی ایس پی آر بھی اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے بھارت کی پاکستان کیخلاف ففتھ جنریشن وار کا بھرپور مقابلہ کیا، عہدے پر برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کے اعلان کے بعد سوال کیا رہا ہے کہ ان کی ٹیم، خاص کر ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور بھی اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں۔اس حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ آرمی چیف اپنی ٹیم میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کریں گے۔ اسی باعث ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا بھی اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے سینیئر تجزیہ کار اور صحافی کامران خان نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے فوج میں اعلی سطح پر ترقیوں کا مسئلہ نہیں ہو گا۔انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ دو لیفٹینینٹ جنرلز کی جنرل کی حیثیت سے ترقی ہو گی ایک کی تعیناتی بطور چیرمین جوائنٹ چیف اور دوسرے کی وائس چیف آف آرمی اسٹاف ہوگی۔