27 فروری : پاک فضائیہ کی جانب سے پکڑے گئے 2 پائلٹ میں سے ایک تعلق بھارت سے تھا مگر ۔۔۔دوسرا پائلٹ کون تھا اور اس وقت کہاں ہے؟ سابق لیفٹیننٹ جنرل کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور( نیوز ڈیسک ) 27 فروری کا دن، بر صغیر کی تاریخ میں ایک نفرد مقام حاصل کر چکا ہے، اس دن پاکستانی شاہینوں نے در اندازی کرنے والے 2 بھارتی طیاروں کو نہ صرف ناکوں چنے چبوائے بلکہ بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا، شروع شروع میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر

جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے در اندازی کرنے والے 2 پائلٹوں کو گرفتار کر لیا ہے لیکن کچھ ہی دیر بعد میڈیا بریفنگ کے دوران بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور اسکی ویڈیو بیان کو میڈیا پر نشر کر دیا گیا ، لیکن اس ساری کارروائی کے دوران دوسرا پائلٹ کہاں گیا؟ سابق لیفٹیننٹ جنرل نے ساری کہانی پاکستانیوں کے سامنے رکھ دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں جب سینئراینکر پرسن کی جانب سے سابق لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفیٰ سے سوال پوچھا گیا کہ کہ ” مجھے یہ بتائیں کہ پاکستان کی جانب سے ابھی نندن کے علاوہ اور بھی کوئی بندہ ( پائلٹ ) پکڑا گیا تھا؟ ” جس کا جواب دیتے ہوئے جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ” ڈاکٹر صاحب آپ صحافی ہیں اور آپ کی اطلاعات مجھ سے زیادہ ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر ایک ذمہ دار شخصیت ہیں، انہوں نے پہلے 2 پائلٹوں کی گرفتاری کا اعلان کیا اور پھر بعد میں ایک بندہ ہی منظر سے غائب ہوگیا تو اسکی کیا وجہ ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے تھے کہ 2 پائلٹ ہم نے واپس کر دیئے، دوسرا پائلٹ کہاں گیا؟ مجھے ذاتی طور پر اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی جانب سے جو دوسرا پائلٹ پکڑا گیا تھا وہ اسرائیلی تھا اور وہ ابھی تک شاید پاکستان کے پاس ہے،اسی وجہ سے 27 فروری کے اگلے ہی روز یعنی 28 فروری کو پوری دنیا حرکت میں آچکی تھی اور مصالحت کی کوششیں شروع کر دی گئیں، پروگرام میں کیا گفتگو ہوئی؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں :