بابا رحمتا آپ کی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ڈیم فنڈ کے پیسوں کے حوالے ایسی خبر کہ پاکستانی خوشی سے جھوم اٹھیں گے

لاہور(ویب ڈیسک) سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے غیر ملکی شہریت کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیرملکی شہریت حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، ڈیم کے لیے عوامی رقم کی نگرانی خود سپریم کورٹ کررہی ہے۔سابق چیف جسٹس پاکستان سے سابق گورنر خواجہ طارق رحیم، جوڈیشل ایکٹوازم پینل

کے سربراہ اظہر صدیق اور عبداللہ ملک نے ملاقات جس میں سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل تھے۔گفتگو کے دوران جسٹس (ر) میاں ثاقب نثار نے مہمند ڈیم کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈیم پر مرحلہ وار کام ہورہا ہے جب کہ تعمیر پر پیش رفت ہو رہی ہے اس پیش رفت کا جائزہ حکومت کو لینا ہے۔سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے غیر ملکی شہریت سے متعلق کہا کہ وہ غیرملکی شہریت حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، میرا جینا مرنا اسی ملک کے لیے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا، ڈیم کی تعمیر کے لیے عوام کا پیسہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں محفوظ ہے، ڈیم کے لیے عوامی پیسے کی نگرانی سپریم کورٹ خود کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔مثلاً انھوں نے پاکستان میں پانی کی کمی کے مسئلے کو جس شدت اور تواتر کے ساتھ اجاگر کیا اس کے نتیجے میں وہ ڈیم بنانے کا اپنا ہدف تو ابھی تک پورا نہیں کر پائے لیکن اس دوران انھوں نے پانی کی کمی کے مسئلے کو پاکستانی میڈیا اور سیاست کے مرکز تک پہنچا دیا۔بطور چیف جسٹس آف پاکستان وہ اپنی تعیناتی کے دوران انصاف کی ممکنہ فراہمی کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کر جاتے تھے جو کہ

قانونی ماہرین کی نظر میں براہ راست حکومتی اور انتظامی امور میں مداخلت کے مترادف تھے۔صاف پانی، ہسپتالوں کی صفائی، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز کی اپیل، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، یہ ایسے کام ہیں جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن ان کاموں کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے ججوں سے بھی ان کا سلوک خبروں اور تبصروں کی زینت بنتا رہا۔ دورۂ سندھ کے دوران اُنھوں نے لاڑکانہ کی ایک بھری عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کے ساتھ جو رویہ اپنایا وہ کئی دن تک ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز پر زیرِ بحث رہا اور پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ جج کا استعفیٰ بھی سامنے آیا۔جعلی اکاونٹس سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کرنے کے مقدمے میں جسٹس ثاقب نثار بحریہ ٹاؤن کے مالک کو یہ پیشکش کرتے رہے کہ وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک ہزار ارب روپے دے دیں تو اُن کے تمام مقدمات نمٹا دیے جائیں گے جبکہ اس کے برعکس ان کے دور میں سپریم کورٹ نیب کی طرف سے پلی بارگین کے طریقۂ کار کے خلاف بھی رہی اور عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ یہ قانون بدعنوانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں صحافتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ اُنھیں بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح میڈیا میں رہنے کا بہت شوق تھا۔ میاں ثاقب نثار نے پہلے پانچ ماہ خاموشی میں گزارے اور اس عرصے کے دوران صحافیوں کی زیادہ تعداد نے بھی سپریم کورٹ باقاعدگی کے ساتھ جانا چھوڑ دیا لیکن اس کے بعد صحافی عدالتی وقت شروع ہونے پر ایسے سپریم کورٹ میں پہنچتے تھے جیسے وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جاتے تھے۔