’’ کلنٹن صاحب! مجھے بچائیں، ہمارے فوجی بہت تنگ کر رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ ۔۔۔‘‘ نواز شریف نے امریکی صدر کو اکیلے میں کیا کہا تھا؟ عامر متین نے پاکستانی سیاست کا شرمناک راز فاش کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی عامر متین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے آج قومی اسمبلی میں بڑی بات کی کہ جب نواز شریف کلٹن کے دور میں امریکا گئے تو انہوں نے وہاں پر کمال کر دیا تھا۔عامر متین کا مزید کہنا تھا کہ جب نواز شریف اور کلٹن کی ون آن ون ملاقات

ہونا تھی تو انہوں نے بل کلنٹن سے کہا کہ بات سنیں میں آپ سے اکیلے میں ملنا چاہتا ہوں اور اس ملاقات میں اور کوئی نہیں بیٹھا ہو گا۔جس پر انہوں نے کہا کہ یہ امریکا ہے یہاں پر جب صدر یا وزیراعظم بیٹھے تو وہ نوٹس لے کر بیٹھتا ہے جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہوتا ہے۔میں آپکا رشتہ دار نہیں کہ آپ سے اکیلے ملوں۔آپکی مرضی ہے اگر آپ اپنی طرف کسی کو نہ بٹھانا چاہیں جس پر نواز شریف نے اپنی طرف کسی کو نہیں بٹھایا۔نواز شریف نے دراصل یہ شکایت لگانا تھی کہ میری حکومت خطرے میں ہے اور مجھے بچائیں کیونکہ ہمارے فوجی مجھے بہت تنگ کر رہے ہیں اور ہماری حکومت چلی جائے گی۔واضح رہے اسی حوالے سے معروف صحافی و کالم نگار الطاف حسین قریشی کا اپنے کالم ‘ واشنگٹن کی تھپکی’ میں کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا کے دوران سب سے بڑی بات یہ کہ اس بات سول ملٹری قیادتیں وزیراعظم عمران خان کے وفد میں شامل تھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھیں یہ منظر کئی اعتبار سے گیم چینجر تھا۔ ماضی میں تو یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی وزیراعظم امریکا کے دورے پر جاتا تو امریکی صدر سے کہتا تھا کہ ہمیں ہماری فوج اختیارات سے یکسر محروم کر دینا چاہتی ہے اور نان اسٹیت ایکٹرز کے ذریعے سے طرح طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔تاہم اس بار معاملہ یکسر مختلف تھا۔وزیراعظم اور آرمی چیف ایک پیج پر تھے۔اور ہم آہنگی سے دو طرفہ تعلقات کو صحیح رخ دینے کے لیے کوشاں تھے۔واضح رہے اس بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان ایک ساتھ امریکا کے دورے پر گئے جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ پاکستان کی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔