’’ جی بلاول صاحب! اب آپ بولیں۔۔۔۔‘‘ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اسپیکر کی اجازت ملتے ہی بلاول بھٹو نے کیا حرکت کر دی؟ عمران خان اجلاس ادھورا چھوڑ کر چلے گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارت کی جانب سے 370اور 35اے کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں تمام رہنماﺅں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ،اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑنے کا بھی اشارہ دیا ،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے جذباتی

تقریر کی جس میں انہو ں نے وزیراعظم کو عمران خان نیازی کہہ کر پکارا اور کشمیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو نا کافی قرار دیا ،جواب میں وزیراعظم عمران خان نے اٹھ کر کہا کہ ن لیگ نے اپنے دور حکومت میں کشمیریوں کے لیے کیا کیا ؟۔اس دوران سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بلاول بھٹو کو تقریر کرنے کا موقع فراہم کیا تووزیراعظم عمران خان وہاں سے اٹھ کر چلے گئے جس پر اپوزیشن اراکین نے فقرے بھی کسے ۔اپنی تقریر کے دوران بلاول بھٹو نے بھی وزیراعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنا یا اور کشمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ۔بللاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک قلم کی جنبش سے بھارت نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیاہے ۔ کشمیر ی بہن بھائیوں کی چیخ وپکار پر ہم خاموش نہیں رہیں گے ، نہتے شہریوں پر کلسٹر بم سے حملہ کیا گیا ، مودی آگ سے کھیل رہاہے ، مودی کا اقدام عالمی قوانین کی خلاف وزری ہے ، اس اقدام کو نہ پاکستان مانتاہے اورنہ کشمیر ی مانتے ہیں، بھارت نے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹر نیٹ سروس اور موبائل سروس بند ہے ، ہزاروں فوجی تعینات کئے گئے ہیں، بچوں اور خواتین کو شہید کیا جارہاہے ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی ہے ،ہم بھارتی مظالم اور جارحیت پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج تعینات کردی ہے ۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو قید کردیا گیا ہے ، کشمیریوں کے ساتھ روح اور خون کا رشتہ ہے ، اس وقت سب سے زیادہ کٹھ پتلی کشمیر ی رہنما پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم کی خاموشی تشویشناک ہے ، ان کے ٹوئٹس کافی نہیں ہیں ، آج کشمیریوں میں خدشات ہیں ، بین الاقوامی برادری کواس مسئلے کا نوٹس لینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں کشمیریوں کاپسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہائیں گے ۔