تازہ ترین: کم سے کم کتنی تنخواہ اور جائیداد رکھنے والوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ؟ ہر تنخواہ دار اور مالک جائیداد کے کام کی خبر

اسلام آ باد (ویب ڈیسک) چیئرمین ایف بی آ ر شبر زیدی نے کہاہے کہ اعدادوشمار کے مطابق 25لاکھ 23200کمرشل بجلی صارفین اور 2 لاکھ 63400صنعتی بجلی صارفین ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہاکہ بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں ماسوائے کے الیکٹرک سے ملنے والی معلومات کے مطابق

تقریباً2 کروڑ 36لاکھ 25561گھریلو صارفین ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ تقریباً25لاکھ 23280کمرشل صارفین اور 2لاکھ 66426انڈسٹریل صارفین ایف بی آر میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ٹوٹل غیر رجسٹرڈ صارفین کی تعداد تقریبا 2کروڑ 68لاکھ86157 ہے۔ٹوٹل غیر رجسٹرڈ صارفین میں سے گھریلو صارفین منہا کر کے غیر رجسٹرڈ صارفین کی کل تعداد 32لاکھ 60ہزار 596 ہے جن کا رجسٹرڈہونا لازمی ہے۔علاوہ ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تفویض قانون سازی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاہے کہ آٹے پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا روز مرہ کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگایا گیا چینی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا وزیر اعظم کی ہدایت پر مکمل عمل کیا ہے عوام کو دوسرے موبائل لانے پر مسائل کا سامنا ہے ہم نے گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی اے سے ملاقات کی ہے تسلیم کرتے ہیں کہ بیرون ممالک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کو اپنا موبائل لانے میں مسائل کا سامنا ہے معاملے پر دس سے پندرہ روز میں نئی پالیسی لا رہے ہیں اس وقت بے شمار وفاقی اور صوبائی ملازمین ٹیکس کٹو ارہے ہیں مگر وہ ریٹرن نہیں کراتے کیونکہ ان کے پاس دیگر مالی ذرائع آمدن بھی موجود ہیں۔ دوسری طرف ایف بی آر نے فنانس ایکٹ کے تحت انکم ٹیکس آر ڈیننس 2001 ء میں کی گئی اہم ترامیم کا وضاحتی سرکلر جاری کر دیا جس کے مطابق ماہانہ دو لاکھ روپے پراپرٹی کرائے پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے،

سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کی آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس کو 5 سے لیکر 35 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ایف بی آر کے سرکلر کے مطابق جائیداد سے حاصل ہونے والے دو لاکھ روپے تک کے کرائے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا جب کہ دو لاکھ سے 6 لاکھ روپے کی پراپرٹی کے کرائے سے ہونے والی آمدن پر 5 فیصد، 6 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 10 فیصد، 10 تا 20 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 15 فیصد، 20 لاکھ تا 40 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 20 فیصد، 40 لاکھ تا 60 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اسی طرح 60 لاکھ تا 80 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 30 فیصد اور 80 لاکھ روپے سے زائد کی پراپرٹی انکم پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔سرکلر کے مطابق 50 لاکھ روپے تک کی پراپرٹی پر 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس، 50 لاکھ تا ایک کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 10 فیصد اور ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 15 فیصد اور ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد پر 20 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہو گا۔دستاویزات کے مطابق 6 لاکھ تا 12 لاکھ روپے کی سالانہ آمدن پر 5 فیصد، 12 لاکھ تا 18 لاکھ روپے کی آمدن پر 10 فیصد ٹیکس، 18 لاکھ تا 25 لاکھ روپے کی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس، 25 لاکھ تا 35 لاکھ روپے کی آمدن پر 17 فیصد، 35 لاکھ تا 50 لاکھ روپے کی آمدن پر 20 فیصد، 50 لاکھ تا 80 لاکھ روپے کی آمدن پر ساڑھے 22 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اسی طرح 80 لاکھ تا ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی آمدن پر 25 فیصد، ایک کروڑ 20 لاکھ تا 3 کروڑ روپے کی آمدن پر 27 فیصد، 3 کروڑ تا 5 کروڑ روپے کی سالانہ آمدن پر 30 فیصد، 5 کروڑ تا ساڑھے 7 کروڑ روپے کی آمدن پر32 فیصد ٹیکس اور ساڑھے 7 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ایف بی آر کے سرکلر کے مطابق ان ترامیم کا اطلاق یکم جولائی 2019ء سے ہو چکا ہے۔