دن دیہاڑے چاقو کے 32 وار سہنے والی طالبہ خدیجہ صدیقی کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئی

لندن (ویب ڈیسک) لاہور میں دن دہاڑے تشدد کا نشانہ بننے والی پاکستان کی بہادر طالبہ خدیجہ صدیقی نے سٹی لا سکول سے اپنی بار ڈگری مکمل کر لی۔ اس پر 23 وار کئے گئے تھے۔ وہ کم از کم 12 امتحانات پاس کرنے کے بعد اب باقاعدہ طور پربیرسٹر بن گئی ہیں۔

نامور صحافی مرتضیٰ علی شاہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یونیورسٹی نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ خدیجہ نے اوور آل بہت اچھے گریڈز حاصل کئے۔ بار ڈگری تفویض کرنے کی تقریب سال رواں اکتوبر میں لنکنز ان میں ہوگی۔ اس نے اپنی لا ڈگری بلیک سٹون سکول آف لا یونیورسٹی آف لندن سے مکمل کی اور 2018 میں تعلیم کیلئے برطانیہ آئی تھی۔ 22 جنوری 2019 کو بار امتحانات کے دوران وہ سپریم کورٹ میں کیس کی فائنل سماعت کیلئے پاکستان گئی تھیں، جس کا فیصلہ ان کے حق میں ہوا تھا، اس کے ساتھ ہی ان کی تین سالہ جدوجہد پایہ تکمیل کو پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے دی نیوزکو بتایا کہ اپنے تمام بار امتحانات پاس کرنے پر خوشی ہے۔ یہاں تعلیم کا تجربہ انتہائی شاندار رہا۔ جہاں مجھے دنیا بھر کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ اساتذہ سارا سال مدد کرتے رہے۔ میں نے متعدد یونیورسٹیز میں خطاب کیا اور پی ٹی ایس فائونڈیشن یوکے کیلئے یوتھ ایمبیسڈر کے طور پر کام کیا۔ لندن ڈائیورس شہر ہے۔ جہاں مجھے مختلف کلچرز کے تجربات ہوئے۔ وہ گریجویشن تقریب کے بعد پاکستان واپس جا کر قانون کی پریکٹس کرنے کی خواہاں ہیں۔ ان کا ہمیشہ سے یہ کہنا ہے کہ وہ پاکستان کیلئے کام اور جدوجہد کرنے کا پلان رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ مجھے بے یارومددگار افراد کی آواز بننے کی ہمت دے اور مستقبل میں جوڈیشل سسٹم میں اصلاحات لائوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ جب میرے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مجھے بتایا کہ میرے کیس کی تاریخ 23 جنوری فکس کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کیس کی سماعت میری غیرموجودگی میں ہوگی، اگر بار کورس کے درمیان میں میرا آنا مشکل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تین سال جدوجہد کی۔ میں جیو نیوز اور دی نیوز کی شکرگزار رہوں گی، جنہوں نے مجھے اپنے پلیٹ فارمز دیئے۔ میں ہر اس شخص کی شکر گزار ہوں، جس نے کیس میں کسی نہ کسی طرح میری مدد کی۔ خدیجہ نے کہا کہ پسماندہ افراد کیلئے انصاف کے حصول کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ اگر کازز کیلئے ہماری سوسائٹی متحد ہو جائے تو پھر بڑی کامیابیاں ہوتی ہیں۔ خدیجہ پر جب حملہ کیا گیا تھا تو ان کی عمر 21 سال تھی۔(ش س م)