آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف پیپلز پارٹی پر کیا خوفناک اور فیصلہ کن وار کرنے والی ہے ؟ سہیل وڑائچ کی تہلکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) آصف زرداری کے جیل جانے سے کچھ نہیں بدلے گا نہ کوہ ہمالیہ روئے گا نہ کوئی بڑی تحریک چلے گی۔ پیپلز پارٹی کو علم ہے کہ اگلا وار سندھ حکومت پر ہو گا اب اگر سندھ کی حکومت احتجاج میں شامل ہوتی ہے تو تحریک انصاف کو سندھ میں مداخلت کا بہانہ مل جائے گا۔

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آصف زرداری نے البتہ جیل کے اندر پہلی رات کے دوران یہ ضرور سوچا ہو گا کہ 15 برس میں عملیت پسندی کے آخری حد تک مظاہرے کے باوجود وہ پھر بھی جیل میں کیوں ہیں؟آصف زرداری عوام کی نظر میں ایک اصلی مزاحمت پسند اور مثالیت پرست ہوتے ہوئے وہ مرد حر کا خطاب تو پا چکے، مرد جمہور کا خطاب بھی پا لیتے مگر صد افسوس کہ ان کے بارے میں کرپشن کا تاثر اسی طرح برقرار ہے۔میگا منی لانڈرنگ ہو ہا سوئس اکاؤنٹس یا سرے محل کا معاملہ، ان کے حوالے کبھی ایسا دفاع سامنے نہیں آیا جو انھیں الزامات سے پاک صاف کر دے۔ طویل جیلیں اپنی جگہ مگر کرپشن کے داغ انھیں عظمت کے تخت پر سرفراز نہیں ہونے دیتے۔کاش بلاول بھٹو زرداری ہی اس حوالے سے سامنے آئیں اور کرپشن سے پاک ایسا بیانیہ سامنے لائیں جو پیپلز پارٹی کی بے داغ مزاحمتی سیاست کو پھر سے زندہ کر دے۔مجھے 31 برس میں زرداری صاحب سے پہلی ملاقات بھی یاد ہے جو جہانگیر بدر کے ہمراہ ایک سیالکوٹی ٹھیکے دار کے کراچی بنگلے میں ہوئی تھی۔ وہ اس وقت کھلنڈرے نوجوان تھے اسی طرح آج سے صرف ایک ماہ میں ہونے والی آخری ملاقات بھی یاد آرہی ہے جس میں وہ بوڑھے اور تھکے تھکے نظر آئے۔زرداری صاحب کو تین دہائیوں سے جاننے کے بعد یہ بات بآسانی کہی جا سکتی ہے۔ آصف زرادی جیل ایک مثالیت پرست کی طرح بہادری سے کاٹیں گے۔ حاکم زرداری نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بکریاں چرانے سے لے کر اونٹوں پر سفر کے ساتھ زمینداری سنبھالنا بھی سیکھایا ہے۔جب وہ اپنے بیٹے کو یہ سب سیکھا رہے تھے تو لازماً حسرت موہانی جیسی مثالیت پسندی کی تربیت بھی دی ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ آصف زرداری نے کامیاب بزنس مین والد ہی سے عملیت پسندی کے اسباق بھی لئے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری جیل میں مزاحمت کی سیاست کریں گے مگر ملک میں عملیت کی سیاست جاری رکھیں گے۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی )