اگر میں عمران خان کا انٹرویو کرنے والے صحافیوں و کالم نگاروں کی ٹیم میں شامل ہوتا تو میرا پہلا سوال یہ ہوتا ۔۔۔۔۔ سلیم صافی نے ایسی بات کہہ دی جسکا جواب دینا کپتان اپنا فرض سمجھیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) اگر وزیراعظم عمران احمد خان نیازی صاحب کا سچ مچ اس طرح کا کوئی انٹرویو لیا جاتا جس طرح کہ ان دنوں پاکستانی میڈیا پر باقی سیاسی رہنمائوں کے لئے جاتے ہیں تو ان سے ضرورسوال ہوتا کہ پانچ سال تک قوم کا وقت اور پختونخوا کے غریب صوبے کے تقریباً ایک

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ارب روپے ضائع کرنے کے بعد اب جبکہ خیبر پختونخوا احتساب کمیشن بند کردیا گیا ہے تو اس کا ذمہ دار آپ کے سوا کون ہے ؟۔ تب ان سے سوال ہوتا کہ علیمہ خان صاحبہ کی دولت کی منی ٹریل کہاں ہے ؟ جہانگیر ترین نااہلی کے باوجود سرکاری اجلاسوں کی صدارت کیوں کررہے ہوتے ہیں ؟ کسی بھی سیٹ کے لئے نااہل سمجھے جانے والے شیخ رشید کو اپنی کابینہ میں دیکھ کر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟، انڈیا کے ساتھ بات چیت پر نوازشریف غدار اور مودی کے یار تھے تو اب یکطرفہ رعایتیں دینے اور مذاکرات کی بھیک مانگنے پر آپ مودی کے یار کیوں نہیں ؟، پورے ملک اور خود بنی گالہ میں غریبوں کے گھر توگرادئیے گئے لیکن آپ کا سینکڑوں کنال کا غیرقانونی گھر ریگولرائز ہورہا ہے ۔ تجاوزات سے متعلق یہ کھلا تضا د کیوں؟ گورنر ہائوس لاہور کی دیواریں گراکر جنگلے لگارہے ہیں تو اپنے بنی گالہ ، وزیراعظم ہائوس اور ایوان صدر کی دیواریں کیوں نہیں گرارہے ہیں؟ دھمکیاں دے کر تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ کیوں کیا اور آپ کے وفاقی وزیر نے یہ گارنٹی کیوں دی کہ ان کے خلاف مقدمات قائم نہیں کئے جائیں گے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر داوڑآپ کے شہر اسلام آباد سے اغوا اور مردہ حالت میں افغانستان سے برآمد ہوئے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ اور اسی طرح کے کئی اور سوال پوچھے جاتے لیکن ظاہرہے کہ یہ تو ایسا فرینڈلی پروگرام تھا کہ اس کا آغاز اس عظیم ترین جھوٹ سے کیا گیا کہ وزیراعظم صاحب آپ نے میڈیا کی سنسرشپ ختم کردی ہے (اندازہ لگا لیجئے کہ سنسرشپ کے اس دور میں اس طرح کا سوال کرنے یا رائے دینے کے لئے کتنی بڑی ہمت چاہئے) لیکن وہاں پر موجودہ کسی میڈیا پرسن نے اپنے ساتھی اینکر کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دے کر میڈیا سے متعلق تاریخ کی بدترین سنسرشپ کا ذکر نہیں کیا ۔ تاہم پھر بھی وزیراعظم کے بعض ایسے جواب سامنے آئے کہ ان پر اطمینان کے اظہار کے لئے علی امین گنڈاپور کا جنون یا فواد چوہدری کا حوصلہ چاہئے ۔یقین نہ آئے تو صرف د و مثالیں ملاحظہ کیجئے۔باجوڑایجنسی کے آئی ڈی پیز کے خلاف اعظم سواتی کے ظالمانہ اقدامات کا وزیراعظم کو پہلے دن علم ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہ خود وزیرداخلہ ہیں اور ان ہی کے حکم پر آئی جی اسلام آباد کو رخصت کیا گیا ۔

پھرجب میڈیا کے ذریعے حقیقت سامنے آئی تو باقی ملک کے کروڑوں شہریوں کی طرح وزیراعظم کو بھی علم ہوجانا چاہئے تھا لیکن جب وزیراعظم اور حکومت حرکت میں نہیں آئے اور بدستور اعظم سواتی کا ساتھ دیتے رہے تو چیف جسٹس آف پاکستان نے اس معاملے کا سوموٹو نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم کے ترجمان فواد چوہدری اور ان کی کابینہ کے ملزم وزیراعظم سواتی کو طلب کیا ۔ جب عدالت کو اندازہ ہوا کہ حکومت لائن پر نہیں آرہی تو عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کا حکم دیا ۔ اس جے آئی ٹی میں تین وفاقی محکموں کے ارکان تھے جن کے سربراہ وزیراعظم ہیں ۔ جے آئی ٹی کے ان ارکان نے آج سے بارہ دن قبل وہ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ۔ جس دن رپورٹ پیش ہوئی اس دن بھی کم وبیش ہر ٹی وی چینل اور اخبار میں اس سے متعلق یہ خبریں آئیں کہ اس میں اعظم سواتی کو مجرم قرار دیا گیا ہے ۔ بہر حال جس دن چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب برطانیہ سے واپس تشریف لائے تو اسی دن (۲۹ نومبر) کو ان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ اس سماعت کے موقع پر جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں ٹیبل کی گئی اور چیف جسٹس نے اس کانتیجہ پڑھ کر سنایا

جس میں اعظم سواتی کو مجرم قرار دلوایا گیاہے۔ جے آئی ٹی کی یہ رپورٹ اس معاملے سے دلچسپی رکھنے والے مجھ سمیت اسلام آباد کے ہر صحافی کے پاس موجود ہے ۔ اس روز اور اگلے تین دنوں میں جے آئی ٹی کی اس رپورٹ کی بنیاد پر ٹی وی ٹاک شوز میں پروگرام ہوئے اور عمران خان صاحب کے پسندیدہ ٹی وی اینکرز نے بھی اس پر گفتگوکی ۔ ابھی تک اس حوالے سے کئی کالم بھی لکھے جاچکے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر جب مذکورہ ٹی وی انٹرویومیں وزیراعظم عمران خان سے ان کی کابینہ کے اہم رکن اعظم سواتی سے متعلق (یہ رپورٹ صرف اعظم سواتی سے متعلق نہیں بلکہ بنیادی طور پر اسلام آباد کے آئی جی کی رخصتی سے متعلق بھی ہے جسے وزیراعظم صاحب نے ان کے کہنے پر عہدے سے ہٹایا تھا) جے آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ جے آئی ٹی نے رپورٹ دی ہے یا نہیں اور پھر جب انہیں بتایا گیا کہ رپورٹ سپریم کورٹ میں فلاں تاریخ کو پیش کی گئی ہے اور اس میں اعظم سواتی کو مجرم قرار دیا گیا ہے تو وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے ابھی تک وہ رپورٹ نہیں پڑھی۔

دوسری مثال ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کی تنزلی ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف کی حکومت میں جب بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا تو عمران خان صاحب یہ کہتے کہ اسٹیٹ بینک آزاد نہیں اور یہ کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ وزیراعظم اور وزیرخزانہ کی ایما پر ہورہا ہے اور پھر وہ ڈالر کے ایک روپے مہنگے ہونے کے نقصانات سے قوم کو آگاہ کرتے رہتے ۔ اب جبکہ ایک دن میں پاکستان کے اندر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت آٹھ روپے گرگئی تو اس کے بار ے میں وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ اس کا ان کو علم نہیں تھااور جو کچھ کیا ہے اسٹیٹ بینک نے کیا ہے۔ وزیراعظم اگر یہ بات کہتے کہ اسٹیٹ بینک کو انہوںنے خودمختار بنا دیا ہے اور مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ایک خودمختار ادارہ ہونے کے ناطے یہ اضافہ کیا ہے تو پھر بھی زیادہ پریشانی کی بات نہیں تھی لیکن تشویش کا پہلو یہ ہے کہ جب مذکورہ ٹی وی مذاکرے میں وزیراعظم عمران خان سے اس بارے میںپوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں پہلے سے علم تھا اور نہ اندازہ کہ اسٹیٹ بینک روپے کی قیمت کم کررہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کا پتہ انہیں میڈیا کے ذریعے چلا اور اگر انہیں پہلے سے پتہ ہوتا تو وہ روپے کی قدر میں اس کمی کی بجائے کچھ اور کرتے ۔ گویا وہ اب اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بھی قائل نہیں لیکن ڈالر کی قیمت اس لئے بڑھ گئی کہ انہیں پہلے سے علم تھا اور نہ اندازہ ۔ اب جبکہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے اہم رکن اعظم سواتی اور اپنے زیرانتظام شہر اسلام آباد کے آئی جی سے متعلق ماتحت اداروں کی اس جے آئی ٹی رپورٹ کا علم نہیں کہ جو کئی روز قبل سپریم کورٹ میں پیش اور پھر پبلک ہوچکی ہے تو سوال یہ ہے کہ انہیں پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار کے تحت ہونے والی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی سازشوں کا کیا علم ہوگا؟ ان کی حکومت ان کے بقول دن رات روپے اور ڈالر کی لڑائی کو قابو میں لانے میں لگی ہوئی ہے ۔ گورنر اسٹیٹ بینک ان کا مقرر کردہ ہے ۔ اب اگر ان کے ایسے اقدامات یا ارادوں کا بھی وزیراعظم کو علم نہیں کہ جن کے نتیجے میں ملکی قرضوں کا حجم کئی ہزار ارب روپے بڑھ جاتا ہے اور جن سے پاکستان کا ہر شہری متاثر ہوتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انہیں گلگت بلتستان، بلوچستان ، کراچی اور پاکستان کے مشرقی یا مغربی سرحدوں پر ہونے والے واقعات کا کیا علم ہوگا ؟ ذاتی طور پر میں ان باتوں پر زیادہ یقین نہیں رکھتا لیکن وہ جو ہم ماضی کے وزرائے اعظم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ وہ سیکورٹی رسک ہیں تو کہیں موجودہ وزیراعظم سچ مچ تو سیکورٹی رسک نہیں؟ ایسے عالم میں کہ جب وہ کئی اہم تقرریاں اور تنزلیاں خوابوں کی بنیاد پر کررہے ہیں ، جب قریبی مشیروں میں زلفی بخاری اور انیل مسرت جیسی شخصیات شامل ہیں اور جب اُنکی فیملی لندن میں گولڈ اسمتھ کے گھر میں جوان ہورہی ہے، یہ سیکورٹی رسک کچھ زیادہ نہیں بڑھ جاتا ۔(ش س م)