You are here
Home > منتخب کالم > “چوہدری اسی تینوں معاف نئیں کیتا ، تیرا ساڈا حساب اگلے جہان لازمی ہووے گا”۔۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل سمن آباد لاہور میں ایک جنازے کے دوران کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟ سبق آموز تحریر

“چوہدری اسی تینوں معاف نئیں کیتا ، تیرا ساڈا حساب اگلے جہان لازمی ہووے گا”۔۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل سمن آباد لاہور میں ایک جنازے کے دوران کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟ سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوائل عمری میں لاہور کے علاقے سمن آباد میں میں اپنے ایک دوست کے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے پہنچا ۔ مرحوم گاڑیوں کی خریدوفروخت کا کاروبار کرتے تھے۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے۔ سینکڑوں لوگ انکے ہاتھوں لٹ چکے تھے۔

انہیں اپنے معاملات درست کرنے کیلئے توبہ کی بہت سی مہلتیں ملیں مگر وہ کسی بھی لٹنے والے کو راضی نہ کرپائے اور ایک روزاچانک دل کے دورے نے انکی سانسوں کی ڈوری کاٹ دی۔ جنازہ تیار تھا ، صف بندی ہو چکی تھی ایک گاڑی پر دو آدمی آئے اور مولوی صاحب ایک منٹ ٹھہر جائیں کہتے ہوئے انہوں نے چودھری مرحوم کے چہرے سے کفن اُٹھایا انکی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے۔ ’’چودھری‘ اسیں تینوں معاف نیں کیتا ہن ساڈا تیرا حساب اگلے جہان ہووے گا۔‘‘شدت کی گرمی میں صفوں کی ترتیب ختم اور جنازے میں شریک چند لوگ ان دونوںکو برا بھلا کہنے لگے۔ جھگڑ ا شروع ہوگیا لیکن وہ دونوں بضد رہے کہ ہم مرحوم کو معاف نہیں کرینگے ۔ جھگڑا طول پکڑگیا اور نماز جنازہ پڑھنے والوں کی حالت یہ تھی کہ ان کیلئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا کیونکہ انکے سامنے میت پڑی تھی جس کی معافی نہیں ہورہی تھی ۔ مولوی صاحب کہنے لگے اچھا آپ نہ معاف کریں مگر نماز جنازہ میں تو شرکت کرلیں۔انہوں نے کہا اگر ہم نے انکی نماز جنازہ جو کہ، فرض کفایہ ہے ، ہم نے پڑھ لی اس طرح تو ہم نے انہیں معاف کردیا ۔خیرتیس چالیس منٹ بعد نماز جنازہ پڑھی گئی اور وہ دونوں ایک طرف ہٹ کر کھڑے رہے مگر جب کندھا دینے کا وقت آیاتو دونوں یہ کہہ کر آگے بڑھے کہ ’’ چل چودھری ہن تینوں اوتھے چھڈ آئیے ، جتھے اسیں وی جانا اے ، ساڈا تیرا حساب ہن اوتھے ای ہووے گا ۔‘‘

اس واقعے نے میرے دل ودماغ پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ بہت عرصے تک میں زندگی کی رعنائیوں میں واپس نہ آسکا۔ بار بار ذہن میں یہ خیال آتا کہ نبی پاک ﷺ نے ایک صحابی کا جنازہ اس وقت تک پڑھنے سے انکار کردیا تھا جب تک انکے ذمے موجود قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری انکے عزیز و اقارب نے اُٹھانہ لی ۔رواں ہفتے میں ایک ایسی ہی نماز جنازہ کی ادائیگی لاہور میں کی گئی جس میں نماز جنازہ پڑھنے والے کم اور احتجاج کرنیوالے زیادہ تھے۔ لوگوں کی تدفین کے باقاعدہ اعلانات ہوتے ہیں مگر مذکورہ میت کی مکمل پردہ داری سے تدفین کرنے کا منصوبہ بھی متاثرین نے کامیاب نہ ہونے دیا۔ٹھوکر سے بحریہ ٹاؤن کی طرف جائیں تو مولانا عبد الستار ایدھی روڈ کے پل سے ذرا پہلے بائیں ہاتھ پر ایک محل زمین پر اکڑ کر کھڑا ہے ۔ یہ محل دس سال قبل ماضی کے لاہور کے سب سے بڑے بلڈر ڈاکٹر امجد مرحوم نے اپنے لئے چند سال قبل تعمیر کروایامگرانہیں چند ماہ ہی رہنا نصیب ہوا اور انہیں نیب سے بچنے کیلئے کینیڈا بھاگنا پڑا۔ ڈاکٹر امجد اپنی گردن پر 13000 متاثرین کا اربوں روپے کا بوجھ لیکر دنیا سے چلے گئے۔ ان کا مردہ جسم گھر سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال میں85 گارڈز کے ساتھ کئی گھنٹے تک کلیئرنس کا انتظارکرتا رہا کہ ادائیگی ہوتو میت وصول کی جا سکے ۔ انکی حفاظت اتنی سخت تھی مگر انکی حفاظت پر مامور یہ85 گارڈز بھی انہیں ملک الموت سے بچا نہ سکے ۔

لاہور، فیصل آباد اوراسلام آباد سمیت کئی شہروںکی درجنوں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خالق اور جدت کے اعتبار سے منفرد سوچ کے حامل ڈاکٹر امجد پر جب پیسے کی برسات ہوئی تو وہی جو لین دین کا انتہائی کھرا تھا وہ پرائے مال پر اتنا بے رحم ہوا کہ اربوں روپے گھر اور پلاٹ دینے کی مد میں وصول کر کے 13 ہزار متاثرین کو سوائے دھوکے کے کچھ بھی نہ دے سکا۔ دن رات اپنے اوپر برسنے والی دولت کا حساب دیناڈاکٹر امجد کو یاد نہ رہا اور لوگوں سے لیکر انہیں پلاٹ یا گھر دینے کی بجائے اسی پیسے کو اپنی خواہشات کیمطابق من پسندشخصیات پر لٹانا ان کا وطیرہ بن گیا۔ کسی کے سارے پیسے ہضم کرجاتے ، کسی کو ایک روپے کی رعایت نہ کرتے ، مگر کسی نہ پولیس آفیسر کو مفت میں گھر بنا کر تحفتاً عنایت کردیتے تھے ۔ موصوف نے ای او بی آئی ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کے ممبران کو گھر دینے کے عوض 2 ارب روپیہ وصول کیا اور بھی ہضم کرگئے اور جب ای او بی آئی کا کیس سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے روبرو پہنچا تو ملزم اورمنصف میں اتنے گہرے مراسم پیداہوگئے جو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بیٹی اور ڈاکٹر امجد کے بیٹے کی شادی پر منتج ہوئے۔نیب نے بہت کوشش سے ڈاکٹر امجد اور انکے بیٹوں کو اشتہاری قرار دلوایا تو سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ انہیں تحفظ فراہم کرتے ہوئے گرفتاری کے راستے میں رکاوٹ بن گئے ۔ سابق چیف جسٹس کے داماد مرتضی امجد کے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے اور وہ ا نٹرپول کے ذریعے دبئی میں گرفتار ہوئے

تو ہائیکورٹ کے سابق جج نے گرفتاری کے وارنٹ ہی غیر قانونی قرار دے دئیے جس پر انٹر پول نے مرتضی امجد کو رہا کردیا پھر طاقت کے یہ سر چشمہ ڈاکٹر امجد پتلی گلی سے نکل کر فیملی سمیت کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ان آنکھوں نے اسی سڑک سے گزرتے ہوئے، کہ میرے اور ڈاکٹر امجد کے گھر کے درمیان ایک سڑک کا فاصلہ ہے ، سینکڑوں ایسے مناظر دیکھے کہ ہر روز کوئی نہ کوئی متاثر باہر پلے کارڈ لئے گیٹ کی طرف منہ کرکے جھولیاں اٹھائے بددعائیں دیتا ہوا نظر آتا تھا ۔ ای او بی آئی کے پنشنرز کا 2 ارب روپیہ و دیگر 13 ہزار متاثرین کا موجودہ شرح کے حساب سے کم از کم 50 ارب ایک نظر نہ آنیوالے بوجھ کی شکل میں ڈاکٹر امجد ساتھ ہی لے گئے جس کا ادراک اس دنیا میں رہتے کم ہی ہوتا ہے ۔ وہ ڈیڑھ ارب لیکر نیب سے پلی بارگین کرنے واپس پاکستان آئے کہ ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی‘‘ سمجھ کر لوگوں کو جو میں آفر دوں گا وہ قبول کرلیں گے مگر کم ہی لوگوں کو اتنی مہلت ملا کرتی ہے ۔ پہلے جنازہ رُل گیا ، کہ جنازہ پڑھنے والے کم اور پلے کارڈ لیکر احتجاج کرنیوالے زیادہ تھے۔ پھر خاموشی سے ماڈل ٹاؤن میں سپرد خاک کرنے کی کوشش بھی احتجاج کرنیوالوں نے ناکام بنا دی ۔ شاید یہ واحد میت تھی جو دعاؤں کی بجائے صدائے احتجاج میں زمین کے سپرد ہوئی ۔ ڈاکٹر امجد تو چلے گئے اب باری ہے انہیں تحفظ دینے والے تمام سہولت کاروں کی ۔اللہ کرے انکے پسماندگان اور تمام سہولت کاروں کو توبہ اور ازالے کی توفیق مل جائے ۔


Top