You are here
Home > منتخب کالم > آپ لوگ دنیا میں ڈیڑھ ارب ہیں اور ہم صرف 4 ہزار ، آپ ہمارے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں ، ہمیں مسلمان کرکے آپ کو کیا ملے گا ؟ ایک کیلاشی کا جاوید چوہدری سے انوکھا شکوہ ۔۔۔۔ نامور کالم نگار کی حیران کن تحریر

آپ لوگ دنیا میں ڈیڑھ ارب ہیں اور ہم صرف 4 ہزار ، آپ ہمارے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں ، ہمیں مسلمان کرکے آپ کو کیا ملے گا ؟ ایک کیلاشی کا جاوید چوہدری سے انوکھا شکوہ ۔۔۔۔ نامور کالم نگار کی حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہم لوگ بہرحال رات کے وقت بارہ گھنٹے سفر کر کے صبح بمبوریت پہنچ گئے اور پھر اس کے بعد آدھا دن سوتے رہے لیکن ہم جب اٹھے تو کیلاش کی تہذیب نے ہمیں ششدر کر دیا‘ ہمارے ہوٹل کے لان میں سیب‘ ناشپاتی‘

خوبانی اور شہتوت کے درخت تھے‘ہم نے ان درختوں کے نیچے ناشتہ کیا‘ کیلاش میں دو قسم کے سیب پیدا ہوتے ہیں‘ گولڈن سیب جون تک پک کر اتر جاتے ہیں جب کہ سرخ سیب ستمبر میں تیار ہوتے ہیں‘ ہم سیب کے جن درختوں کے نیچے بیٹھے تھے وہاں ستمبر میں سیب پکیں گے لیکن درخت ان سے لدے ہوئے تھے۔ہوٹل کی بیک سائیڈ پر مکئی کا کھیت تھا اور کھیت کے آخر میں سیب اور ناشپاتی کے درجن بھر درخت تھے‘ حکیم بابر صبح سویرے کھیت کے مالکان سے رشتے داری گانٹھ آئے تھے‘ یہ مجھے تازہ ناشپاتی کا لالچ دے کر وہاں لے گئے‘ مکئی کی فصل کے آخر میں تین کیلاشی گھر تھے‘ خواتین صحنوں میں کام کر رہی تھیں اور خاندان کا بزرگ دریا کی طرف ناکا لگا رہا تھا‘ حکیم بابر مجھے اس کے پاس لے گئے‘ بابے کے چار بیٹے تھے‘ دو ایون ویلی میں کام کرتے تھے اور دو چترال میں‘ وہ خوش دلی سے ملا‘ اس نے ہمیں ناشپاتی توڑنے کی اجازت دے دی لیکن اس کی صرف ایک شرط تھی‘ ہم پھل توڑ کر صرف وہاں کھڑے ہو کر کھا سکتے تھے‘ ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے۔میں نے زندگی میں تیسری بار درخت سے ناشپاتیاں توڑ کر کھائیں‘ آپ یقین کریں وہ مزہ ہی مختلف تھا‘ سیب اور خوبانیاں ابھی کچی تھیں تاہم چھت سے انگوروں کی بیلیں لٹک رہی تھیں اور ان پر سرخ انگوروں کے خوشے بھی تھے لیکن وہ ہماری دسترس سے دور تھے‘ ہم انھیں صرف دیکھ سکتے تھے اور ’’انگور ابھی کچے ہیں‘‘

کہہ سکتے تھے اور ہم نے جی بھر کر یہ کہا‘ حکیم بابر نے بابے کی نظریں چرا کر دو ناشپاتیاں چرا لیں اور ہم دیر تک اس چوری پر قہقہے لگاتے رہے‘ بابے کو دور سے سلام کیا اور واپس آ گئے‘ دریا کھیت کے ساتھ ساتھ بہہ رہا تھا اور اس کا شور میوزک کی طرح فضا میں گھل رہا تھا۔ہوٹل کا مالک کیلاشی تھا‘ وہ واپسی پر مجھ سے ملنے آیا‘ اس کا کہنا تھا‘ ہم پر سکون کمیونٹی تھے‘ ہم اپنے حصار میں بہت خوش تھے لیکن پھر یہاں مبلغوں نے آنا شروع کر دیا‘ چترال‘ دیر اور پشاور کے پارسا لوگ بھی ہمارے پیچھے پڑ گئے‘ یہ ہمیں زبردستی مسلمان بنانے لگے‘ کیلاش میں جب کوئی شخص اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو ہم اسے اپنے قبیلے سے نکال دیتے ہیں‘ وہ اس کے بعد ہمارا لباس پہن سکتا ہے‘ ہمارے کسی تہوار میں شریک ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم سے میل ملاپ کر سکتا ہے‘ کیلاشی پیدائشی کیلاشی ہوتے ہیں۔کوئی دوسراشخص کیلاشی نہیں بن سکتا‘ہمارے بے شمار لوگ تبلیغ‘ خوف اور لالچ کی وجہ سے مسلمان ہونے لگے اور یوں ہم اب صرف چار ہزار رہ گئے ہیں‘ آپ لوگ دنیا میں ڈیڑھ ارب ہیں‘ ہم صرف چار ہزار ہیں‘ آپ لوگ ہمارے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ ہم بھی اگر مسلمان ہو گئے تو آپ کو کیا فائدہ ہو گا! آپ پلیز ہمیں بس کیلاشی رہنے دیں‘ ہم اپنی روایات کے ساتھ بہت خوش ہیں‘ ہم پر دوسرا عذاب ٹیلی نار کی شکل میں نازل ہوا‘ ہم 2015 تک دنیا سے کٹے ہوئے تھے‘ ہم خوش تھے لیکن پھر ٹیلی نار نے یہاں بوسٹر لگا دیا اور بمبوریت میں موبائل فون بجنا شروع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی ہمارا سکون غارت ہو گیا‘ آپ پلیز کسی طرح ہمارے موبائل بند کرا دیں۔میری ہنسی نکل گئی لیکن اس کے دونوں مطالبے جینوئن تھے۔


Top