Categories
منتخب کالم

میں عمران خان کو 25 سال سے جانتا ہوں وہ اپنی حکومت ختم کرلے گا مگر ایک کام کبھی نہیں کرے گا ۔۔۔سینئر صحافی کا حیران کن دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔شہر اقتدار میں حکومت کی معاشی ناکامیوں اور پی ٹی آئی میں ارکان کی باغیانہ روش کی وجہ سے قومی حکومت کی تجویز گردش کر رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کیا ’’کپتان ‘‘ اس تجویز کو قبول کرلے گا ؟

یہ تو اسی وقت ممکن ہے جب عمران خان کو سیاسی مخالفین سے شکست تسلیم کرنے پر مجبورکر دیا جائے۔ میں عمران خان کو ربع صدی سے جانتا ہوں وہ سب کچھ کر لیں گے لیکن اپنے سیاسی مخالفین کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے‘ وفاقی وزیراسد عمر نے بلاوجہ وارننگ نہیں دی کہ’’اگر عمران خان کو کام نہ کرنے دیا گیا تو وہ قومی اسمبلی کو توڑ بھی سکتے ہیں ‘‘ در اصل انہوں نے یہ پیغام ان قوتوں کو دیا ہے جو ملک کو بند گلی سے نکالنے کے لئے قومی حکومت کے قیام کی خواہشمند ہیں ۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کو اپنے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کو اصل خطرہ اپنی پارٹی کے ان باغیوں سے ہے جنہیں حکومت سازی کے وقت جہانگیر ترین نے بڑی تیزی سے پی ٹی آئی کی’’چھتری‘‘ تلے اکٹھا کیا تھا آج وہ اسی رفتار سے واپس ان کے کیمپ کی رونق بن رہے ہیں۔ سیاسی شعور رکھنے والا ہر شخص یہ جانتا ہے کہ عمران خان کی حکومت جس شاخِ نازک پر قائم ہے اس پر سے 7،8پرندے اڑ کر چلے جانے کے بعد آشیانہ سلامت رہنا ممکن نہ ہو گا ۔ شہباز شریف ضمانت پر رہا ہو کر باہر آگئے ہیں اسلام آباد میں برطانیہ اور چین کے سفیروں سے ملاقاتیں کرچکے ہیں ممکن ہے وہ ایک دوروز میں سعودی عرب کے سفیر سے بھی ملاقات کریںلیکن ان کے بارے میں یہ خبر آئی ہے کہ وہ علاج کے لئے برطانیہ جا رہے ہیں قومی حکومت کا تاج کس کے سر سجتا ہے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے نواز شریف کسی ایسی قومی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے ان کی وطن واپسی ممکن نہ ہو’’ مائنس ون ‘‘فارمولہ پہلے بھی نواز شریف نے قبول نہیں کیا جس کے نتیجے میں ان کی جلاوطنی کی نوبت آگئی البتہ اگر مریم نواز کے وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دی گئیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ نواز شریف مقتدرہ سے صلح کر لیں گے ۔ اس سیاسی کھیل کے اہم کھلاڑی چوہدری نثار علی خان نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے وہ اندھیرے میں کوئی کھیل نہیں کھیلنا چاہتے وہ دن کے اجالے میں اپنے لئے کسی رول کے منتظر ہیں یہی وجہ ہے انہوں نے تاحال پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا اگرچہ پچھلے دو اڑھائی سال کے دوران ان کے لئے وزارت اعلیٰ پنجاب کا تخت سجا کر رکھا گیا لیکن انہوں نے کوئی پر کشش پیشکش قبول نہ کر کے اپنے اجلے سیاسی دامن کو داغدار ہونے سے بچائے رکھا ۔ قومی حکومت کے منصوبہ سازوں کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہیں کہ پاکستان کو بند گلی سے کس طرح نکا لاجائے۔ بند گلی میں حکومت بھی کھڑی ہے، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ بھی۔