You are here
Home > منتخب کالم > جس سیٹ اپ کو سر سید ، جناح ا ور اقبال تبدیل نہ کرسکے ، وہاں میں کس کھیت کی مولی ہوں ۔۔۔۔۔ حسن نثار نے بھی ہاتھ کھڑے کردیے ، ملکی حالات پر حیران کن تبصرہ

جس سیٹ اپ کو سر سید ، جناح ا ور اقبال تبدیل نہ کرسکے ، وہاں میں کس کھیت کی مولی ہوں ۔۔۔۔۔ حسن نثار نے بھی ہاتھ کھڑے کردیے ، ملکی حالات پر حیران کن تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کئی سینئر بیوروکریٹس سے مختلف لفظوں میں ایک ہی بات کئی بار سن چکا ہوں، ذرا غور فرمایئے…. ’’بس جی ریٹائرمنٹ میں ….. ..سال رہ گئے ہیں، اس کے بعد ہمیں کس نے پوچھنا ہے‘‘۔قارئین! یہ جملہ

نہیں ہمارا عظیم ترین المیہ ہے کیونکہ بیورو کریٹس کبھی کریم آف دی سوسائٹی سمجھے جاتے تھے، ان کو بھی اس کا شعور نہیں کہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ زندگی کی زندہ ترین حقیقت ہے، سو اگر تم لوگوں کے ساتھ محبت، شفقت، عزت، احترام سےپیش نہیں آ رہے، ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کر رہے، تمہارے رویوں میں عدل، احسان، صلہ رحمی، مدد کا فقدان ہے، تمہاری گردن میں سریا اور تم ہر کسی کے لئے فرعون کا منی ایچر ہو تو ظاہر ہے ریٹائرمنٹ کے بعد لوگوں نے تمہیں چاٹنا ہے کیا؟ تم پر تو گلی کا آوارہ کتا بھی بھوکنا پسند نہیں کرے گا…… لیکن نہیں کیونکہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی نہ ان کا مائنڈ سیٹ، رویے تبدیل ہوتے ہیں نہ یہ حکمرانی کے کومپلیکس سے جان چھڑا سکتے ہیں ، تو کیا یہ سب بہت ہی عجیب و غریب نہیں۔دوسری طرف یہ رویہ بھی بہت عام ہے کہ کوئی کسی کی تکلیف سن کر ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دے تو بندہ کہتا ہے ’’چھوڑو جی اگر ایویں کچھ نکل آیا تو کوئی نیا کٹا کھل جائے گا‘‘۔ پھر جب اس مریض کو مجبوراً ٹیسٹ کرانے ہی پڑ جائیں اور نتیجے ٹھیک نکل آئیں تو خوش ہونے، ﷲ کا شکر ادا کرنے کے بجائے منہ لٹک کر ناف تک آ جانے کے بعد کہے گا ’’ خوامخواہ اتنے پیسے برباد ہوگئے، نکلا تو کچھ بھی نہیں‘‘۔

اس سے زیادہ منفی اور احمقانہ رویہ کیا ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی ہمارے عمومی رویوں میں سے ایک ہے۔ کم تولنے، ملاوٹ کرنے والا رنگے ہاتھوں پکڑا جائے، راشی رشوت لیتے ہوئے چھاپہ پڑنے پر پوری بے شرمی،بے حیائی اور ڈھٹائی سے کہتا ہے ’’کیا میں اپنے بچوں کو بھوکا مار دوں؟‘‘ یعنی وہ سرعام حرام خوری کا دفاع کرتا ہے۔گزشتہ رمضان میں لاہور کی ایک مشہور سڑک پر اک باریش ٹوپی والا بزرگ پکڑا گیا جس کے ماتھے پر محراب بھی تھا۔ اس ’’صالح لوکنگ‘‘ بزرگ نے کئی من چینی یوٹیلیٹی سٹورز کے گوداموں سے ان کے سٹاف کے ساتھ مل کر اڑائی تھی اور ’’قبلہ‘‘ ہر روز اپنے سٹور پر غریب غربا کو افطار بھی کراتے تھے۔ اب کوئی علامہ صاحب مجھے سمجھائیں کہ وہ نیکی کر رہے تھے یا بدی؟ ہماری یہ غلیظ ذہنیت عشروں پر محیط ہے۔ تقریباً 60 سال پہلے ایک فلم ریلیز ہوئی جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کا نام تھا ’’سرفروش‘‘ سنتوش کمار اس کے ہیرو اور صبیحہ ہیروئن تھیں۔ ’’سرفروش‘‘ میں ہیرو کا یہ ڈائیلاگ زبان زد عام ہو کر محاورہ سا بن گیا …’’

چوری میرا پیشہ ہے نماز میرا فرض‘‘۔ صدیوں سے یہی ہمارا مائنڈ سیٹ اور پاپولر رویہ ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسجدیں نمازیوں سے چھلک رہی ہوں، جمعہ کو صفیں سڑکوں تک پھیل جاتی ہوں لیکن ہر کام، محکمہ، شعبہ گندگی، غلاظت اور منافقت کا شہکار ہو۔ انسانی معاشرہ کی وہ کون سی برائی، کجی اور بدصورتی ہے جو یہاں اپنے شباب پر نہیں۔ہم وہ لاجواب لوگ ہیں جو سرمد شہید کے ساتھ ساتھ اورنگزیب عالمگیر کی قبر پر بھی فاتحہ پڑھتے ہیں۔ حالانکہ سرمد جیسے صوفی، درویش، مجذوب کو عالمگیر کے حکم پر قتل کیا گیا تھا کیونکہ وہ داراشکوہ کو پسند کرتا تھا۔ دوسری طرف ابھی کل کی بات ہے جب ہمارے ترک بھائی اپنے ’’قائداعظم‘‘ مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں بیمار بیکار سلطنت عثمانیہ سے جان چھڑانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ بابائے قوم محمد علی جناح ترکوں کے حق میں تھے جبکہ یہاں مسلمان قائدین اور گاندھی صاحب شانہ بشانہ ’’تحریک خلافت‘‘ چلا رہے تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی یہ سمجھنے کو تیار نہ تھا کہ دراصل وہ خلافت نہیں، سلطنت تھی۔ سلاطین کا اپنا جاہ و جلال اور ’’حرم‘‘ افسانوی شہرت کے حامل تھے۔

اقتدار کے لئے بیٹوں، باپوں، بھائیوں کے سر اتارنا جائز تھا لیکن ہم اپنے ملک میں غلام ابن غلام ترکوں کے لئے ’’تحریک خلافت‘‘ چلا رہے تھے اور آج بھی اپنا آپ سنبھالا نہیں جا رہا، لیکن سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اور ہم ہی وہ جُمےّ ہیں جو ہر جنج کے آگے آگے بھنگڑے ڈالتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ہمارا اپنا آگا، پیچھا ہی کوئی نہیں۔ 73 سال بلکہ صدیوں سے نہ منزل معلوم نہ سمت کاعلم…. جہاں فانی پر فتح کے خواب لیکن پینے کو صاف پانی موجود نہیں۔ علم مومن کی گمشدہ میراث تھی جسے حاصل کرنے کی جدوجہد کی بجائے ہم نے جہالت کی اجارہ داری سنبھالی اور اس پر فخر کرنے کے مہلک مرض میں بھی مبتلا ہیں۔ کیسا مائنڈ سیٹ ہے جو جہالت کو علم سمجھنے پر مصر ہے۔ صدیوں سے مسلسل ایک ہی جیسے بے ثمر، بے فیض کام کرکے بھی اپنی حکمت عملی کو ری وزٹ کرنے پر آمادہ نہیں حالانکہ حقیقت یہ کہ جس رستہ پر کسی ذہین جانور کو ایک بار پتھر مارا جائے وہ چوکنا ہو جاتا ہے یا وہ رستہ ہی ترک کردیتا ہے، لیکن میں کہاں سر پھوڑ رہا ہوں؟ جس مائنڈ سیٹ کو سرسید، اقبال، جناح اور مولانا مودودی تبدیل نہ کرسکے، وہاں میں کس کھیت کی مولی یا گونگلو ہوں، لیکن یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اس مضحکہ خیز مائنڈ سیٹ اور بیمار رویوں کے ساتھ کب تک اور کہاں تک جایا جاسکتا ہے؟


Top