You are here
Home > منتخب کالم > مولانا خادم حسین رضوی کے جنازے سے حاصل کردہ نیک نامی کو سعد رضوی نے کیسے 2 دنوں میں ضائع کر ڈالا ، اب اس بچہ پارٹی کے ساتھ کیا ہو گا ؟ توفیق بٹ کی سچی اور کھری تحریر

مولانا خادم حسین رضوی کے جنازے سے حاصل کردہ نیک نامی کو سعد رضوی نے کیسے 2 دنوں میں ضائع کر ڈالا ، اب اس بچہ پارٹی کے ساتھ کیا ہو گا ؟ توفیق بٹ کی سچی اور کھری تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ (ن) لیگ کے دور حکومت میں ٹی ایل پی نے جو فساد برپا کیا تھا یا بوجوہ کروایا گیا تھا تب شیخ رشید احمد نے ان کے حق میں تقریر فرمائی تھی جو ہمدردی ان کے ساتھ ظاہر کی تھی

وہ شاید اب بھی قائم ہو گی اور اس بنیاد پر وہ حافظ سعد رضوی کی گرفتاری پر بطور احتجاج کہیں استعفیٰ ہی نہ دے دیں؟ دوسرا خدشہ میرا یہ تھا اتنے ”قابل وزیر داخلہ“ اگر مستعفی ہو گئے ان جیسا وزیر داخلہ حکومت کہاں سے ڈھونڈ کر لائے گی؟ اور کوئی وزیر نہ ملنے کی صورت میں یہ محکمہ وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا لیا‘ ہمارا کیا بنے گا؟ ٹی ایل پی پر اب پابندی لگا دی گئی ہے تاریخ اس واقعے کو ہمیشہ یاد رکھے گی‘ اس کا اعلان اس وزیر داخلہ نے کیا محض چند برس قبل جس کے بارے میں ہم یہ سوچ رہے تھے اس کی مخصوص ذہنیت کی بناءپر عام انتخابات میں کسی سیاسی جماعت نے اسے منہ نہ لگایا‘ یا اسے ٹکٹ نہ دیا وہ شاید ٹی ایل پی کے پلیٹ فارم یا ٹکٹ پر الیکشن لڑے گا‘ پھر اس نے اپنی جماعت بنا لی میں حیران تھا اس کے بعد مولانا خادم حسین رضوی (مرحوم) کو اپنی جماعت بنانے کی ضروت محسوس ہوئی؟؟؟ ٹی ا یل پی پر پابندی لگانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط میں اس بحث میں نہیں پڑتا میرا دکھ یہ ہے مولانا خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے تاریخی بڑے جنازے کی صورت میں جو عزت ”بچہ پارٹی“ کو ملی تھی عوام کو اذیت پہنچا کر کتنی جلدی اسے ضائع کر دیا گیا۔


Top