You are here
Home > منتخب کالم > اس بار فواد چوہدری کو مکمل طور پر بااختیار وزیر اطلاعات بنایا گیا ہے ، مگر کیسے ؟ چند شاندار حقائق

اس بار فواد چوہدری کو مکمل طور پر بااختیار وزیر اطلاعات بنایا گیا ہے ، مگر کیسے ؟ چند شاندار حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد اویس کے خاندان میں سب سے زیادہ نام چوہدری فواد حسین نے کمایا۔کہتے ہیں فواد چوہدری اپنے داد ا کی کاپی ہیں۔ انہی جیسا دل و دماغ رکھتے ہیں۔ انہیں دوبارہ اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔

اس مرتبہ وہ پورے اختیار کے ساتھ وزیر بنائے گئے ہیں۔ ان کااختیاران کے نوٹیفکیشن میں باقاعدہ درج کیا گیا ہے۔ ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا ’’میں بحیثیت وزیرِ اطلاعات و نشریات ہر ممکن کوشش کروں گا کہ پاکستان کے متعلق دنیا کے تاثر کو تبدیل کروں۔ ہمیں پاکستان کا تاثر بدلنا ہے۔ کتنے ستم کی بات ہے کہ پاکستان نے جن ممالک کی جنگیں لڑیں ،انہوں نے ہی پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کے بدترین پاسپورٹس کی فہرست میں ڈال دیا۔ وزراتِ اطلاعات و نشریات میں میری پالیسی وہی ہو گی، جو پچھلی مرتبہ تھی۔ ‘‘بے شک پچھلی مرتبہ جب فواد چوہدری وزیر اطلاعات بنائے گئے تھے توانہوں نے ستر سال کے بعد سب سے بڑی ریفارمزکرنے کی کوشش کی تھی۔ جن میں پی ٹی وی کو سرکاری اثرو رسوخ سے نکالنا تھا۔اس کے تباہ حال ڈھانچے کودوبارہ سےایک جیتے جاگتے ادارے میں تبدیل کرنا تھا۔ اس سلسلے میں پی ٹی وی لاہور سنٹر پر مجھ سے ایک باقاعدہ پریزنٹیشن اپنی ٹیم کودلوائی تھی۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان کے متعلق ان کا وژن بڑا واضح تھا‘ وہ اسے دنیا کے بڑے ریڈیومیں بدلنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کو بین الاقوامی میڈیا یونیورسٹی کی سطح کا ادارہ بنانے کا خواب دیکھا۔اس پروجیکٹ پر تقریباً پچاس ارب روپے خرچ ہونے تھے۔معلوم ہوا کہ صرف اسلام آباد اسٹیشن کی عمارت فروخت کردی جائے تو پچاس ارب روپے مل سکتے ہیں۔ سو اس آئیڈیئےپر کام شروع کردیا گیا مگر ترقی کا راستہ روکنے والوں نے ناک میں دم کر دیا۔ وہ پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان ، اے پی پی اور وزارت ِ اطلاعات و نشریات کوان کےاثاثوں کی مدد سے کیمونی کیشن کےماڈرن ترین ادارے بنانے کے خواہشمند تھے۔ انہوں نے مجھےکہا تھا کہ وزارت اطلاعات کےجو میگزین ہیں۔ مہ نو اور پاک جمہوریت ، میں چاہتا ہوں کہ یہ یونین کونسل کی سطح تک پہنچیں ، الیکٹرانک میڈیا کی مدد سے ہر معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی ان سے روشنی اور خوشبو حاصل کرے تاکہ حکومت اور عوام کے درمیان ڈائریکٹ معلومات کی فراہمی ممکن ہو۔ ایک علمی معیشت کیلئے یہ سب کچھ ضروری ہے، اس مرتبہ ان کا سلوگن Knowledge Economy ہے۔ علم کی معیشت ،علم اور معلومات کی براہ راست پیداوار، تقسیم اورپیداوار پر مبنی ہے لیکن ایک موثر اور جدید انفارمیشن اور ایجوکیشن نظام کے بغیر علمی معیشت کی ترقی ممکن نہیں۔ فواد چوہدری کو اس مقصد کےلئے صرف انفارمیشن نہیں ایجوکیشن کے نظام پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ انہیں وزیر تعلیم کو بھی اپنے پہلو میں بٹھا کر تعلیمی پالیسیاں تیار کرانا ہوں گی۔


Top