You are here
Home > منتخب کالم > ایک لحاظ سے تو تحریک لبیک والے ٹھیک ہی کہتے ہیں ۔۔۔۔ کالم نگار ایاز امیر نے عمران حکومت کو نالائقوں کا ٹولہ قرار دے کر حیران کن بات کہہ دی

ایک لحاظ سے تو تحریک لبیک والے ٹھیک ہی کہتے ہیں ۔۔۔۔ کالم نگار ایاز امیر نے عمران حکومت کو نالائقوں کا ٹولہ قرار دے کر حیران کن بات کہہ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جتھے والے ایک لحاظ سے تو ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا اور پھر وعدہ نبھایا نہ گیا۔ اندازہ لگائیے کہ موجودہ افلاطونوں نے جتھے والوں سے واقعی مذاکرات کئے تھے اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ تین ماہ میں

فرانس کے حوالے سے درپیش مسئلے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ پھر اِس تاریخ میں دو ماہ کی توسیع مانگی گئی۔ ظاہر ہے جس قسم کی باتیں جتھے والے کر رہے تھے اُنہیں کوئی حکومت نہیں مان سکتی تھی‘ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مطالبات ہی لا یعنی قسم کے تھے تو حکومت مذاکرات میں کیوں گئی؟ تین ماہ کی مہلت کیوں مانگی گئی؟ پھر اِس دورانئے میں دو ماہ کا اضافہ کیوں کیا گیا؟ حکومت کو پہلے ہی اتنا شعور ہونا چاہئے تھاکہ جتھے والوں سے مذاکرات کی بنیاد کوئی بنتی ہی نہیں‘ لیکن اس سے بڑھ کر یہ خبریں بھی آئیں کہ مطالبات مان لئے گئے ہیں اور صرف اِن پہ عمل درآمد کرانے کیلئے وقت کی مہلت مانگی گئی ہے۔حکومت صرف کمزوری کی مرتکب نہ ہوئی بلکہ انتہا کی بے وقوفی کی بھی۔ فرانس کے صدر نے جو بھی کہا ہو، فرانس میں جو بھی قانون پاس کیا گیا ہو، ریاست پاکستان کہاں سے احمقانہ اقدامات کر بیٹھتی؟ احمقانہ اقدامات ایک طرف اور وہ بھی ایک گروہ کے پریشر کے تحت۔ کس ملک میں ایسا ہوتا ہے؟ لیکن ریاست پاکستان سے توقع کی جا رہی تھی کہ اقوام عالم میں اپنے لئے جگ ہنسائی کا سامان پیدا کرے۔ یہاں پھر ایک سوال اٹھتا ہے، کیا حکومت ان سب عوامل سے بے خبر تھی؟ اُسے معلوم نہیں تھا کہ جو مطالبات کئے جا رہے ہیں اُن کو ماننا اس کیلئے ناممکن تھا؟ تو پھر اِن سے پوچھا جائے کہ آپ مذاکرات میں گئے کیوں تھے؟ آپ میں اتنی اخلاقی جرأت ہونی چاہئے تھی کہ آپ تب کہتے کہ مطالبات غلط ہیں اور انہیں کوئی حکومت نہیں مان سکتی‘ لیکن لیت و لعل سے کام لیا گیا، حیلے بہانوں کا سہارا لیا گیا اور وقت ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ بلا ٹلی نہیں، اپنے وقت پہ رونما ہوئی اور جہاں پہلے کسی اصول پہ کھڑے ہوتے تو نقصان کم ہوتا مصلحت پسندی کی وجہ سے نقصان بہت زیادہ اٹھانا پڑا۔لیکن یہ بلا صرف فرانس والے مسئلے سے شروع نہیں ہوتی۔ کڑیاں دور تک جاتی ہیں۔ کھل کے بات نہیں کی جا سکتی، احتیاط لازم ہے لیکن اِتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ صرف اِس حکومت کی نہیں بلکہ پوری ریاست کی کمزوریوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ لوگوں کے جذبات جو بھی ہوں ریاست کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور اِن میں سے سرفہرست جان و مال کا تحفظ ہے۔ جتھے والے احتجاج کی راہ پہ اتر آتے ہیں اور راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ حکومت اور ادارے تماشا دیکھتے رہتے ہیں اور پھر وہی مذاکرات کا ڈھونگ چلتا ہے جس کا آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو اور شہ ملتی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ جب احتجاج کرنے والے منتشر ہونے پہ آمادہ ہوتے ہیں تو اُن میں ریاست کی ایما پہ سفر کا خرچہ تقسیم کیا جاتا ہے۔


Top