You are here
Home > منتخب کالم > یوسف رضا گیلانی کی بطور اپوزیشن لیڈر استعفیٰ دینے کی پیشکش اور بلاول بھٹو کا شوکاز نوٹس پھاڑنا اسکرپٹ کا حصہ، اس اسکرپٹ کے تحت آگے کیا ہو گا ؟ سینئر صحافی کا خصوصی تبصرہ

یوسف رضا گیلانی کی بطور اپوزیشن لیڈر استعفیٰ دینے کی پیشکش اور بلاول بھٹو کا شوکاز نوٹس پھاڑنا اسکرپٹ کا حصہ، اس اسکرپٹ کے تحت آگے کیا ہو گا ؟ سینئر صحافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ارے واہ بلاول بھٹو زرداری تو بڑی تیزی سے لیڈر شپ کی منازل طے کر رہے ہیں۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھیجا گیا شوکاز نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا۔

وہاں موجود تیس چالیس سال سے سیاست کرنے والے کمیٹی کے ارکان نے اپنے نوجوان لیڈر کی یہ جرأت رندانہ دیکھ کر بھرپور تالیاں بجائیں کسی ایک کو بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ بلاول بھٹو زرداری کو اس کام پر داد دینے کی بجائے بتاتے کہ حضور آپ شاید اپنے نانا کی پیروی میں ایسا کر گئے ہیں لیکن انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پولینڈ کی قرارداد کسی اور مقصد کے تحت پھاڑی تھی آپ نے تو بلا مقصد یہ قدم اٹھایا ہے اور پھر ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے ایسے کاموں کے لئے تو ساری زندگی پڑی ہے۔ شو کاز نوٹس کو پھاڑنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اپنا نظریہئ سیاست بھی بیان کیا کہ ہم عزت کے لئے سیاست کرتے ہیں، بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے،ایسے ڈائیلاگ کسی زمانے میں فلمی مکالموں کی صورت سننے کو ملتے تھے، اب فلموں پر تو زوال کا دور ہے اِس لئے یہ کسر بلاول بھٹو زرداری نے پوری کر دی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کا اضطراری فعل تھا تو غلط ہو گا یہ طے شدہ سکرپٹ تھا جس میں بلاول بھٹو زرداری نے کامیابی سے حقیقت کا رنگ بھرا۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کسی پنچائت میں ایک فریق کے پاس جواب دینے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ پوری پنچائت کو ہی الٹا دیتا ہے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، پیپلزپارٹی کو معلوم تھا کہ اس نوٹس کا جواب دینا آسان نہیں حقائق اتنے سادہ اور واضح ہیں کہ انہیں جھٹلانا نا ممکن ہے،

اس لئے آسان راستہ یہی تھا کہ نوٹس کو سربازار پھاڑ دیا جائے اور اس کی وجہ یہ بتائی جائے کہ ہم عزت دار اور شریف لوگ ہیں ایسی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ سوال تو اپنی جگہ ہے کہ ایک شو کاز نوٹس میں عزت بے عزتی کا معاملہ کیسے آ گیا۔ جس کے پاس جواب دینے کو کچھ ہوتا ہے وہ نوٹس کو پھاڑتا نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اس کا جواب دے کر اپنی پوزیشن واضح کر دیتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو شو کاز نوٹس پھاڑ دیا کیا اس سے یہ نوٹس ختم ہو گیا، یا اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ یہ نوٹس تو اپنی جگہ ایک حقیقت اور دستاویز ہے، جو تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہے۔ آج اگر پیپلزپارٹی اس کا جواب نہیں دینا چاہتی تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس نوٹس میں درج واقعات ختم ہو گئے ہیں یا ان کی نفی ہو گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کو سیاست کا مولا جٹ بننے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں خاندانی آمریت ہے مریم نواز کے سامنے مسلم لیگ (ن) کا سینئر سے سینئر رہنما لب کشائی نہیں کر سکتا اور پیپلزپارٹی میں بلاول بھٹو زرداری کی بات پر تالیاں نہ بجانے والا نشانِ عبرت بن سکتا ہے مگر اس کے باوجود جب پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہو جو کسی بھی جماعت کا سب سے بڑا فورم ہوتا ہے، تو اس میں کسی ایک کو تو سچ بولنے کی جرات کرنی

چاہئے۔کوئی تو بلاول بھٹو زرداری کو روکتا ٹوکتا کہ جناب اس نوٹس کو پھاڑ کر آپ نے اپنے غیر سیاسی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ نوٹس عدالت کا ہو یا کسی سیاسی اتحاد کا اس کا احترام ضروری ہے۔ ایسی خبریں لوگ روزانہ سنتے ہیں کہ کسی علاقے میں قبضہ گروپ کے سربراہ نے عدالت یا انتظامیہ کا نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا، ایسے موقع پر جو لوگ اس کے لئے تالیاں بجاتے ہیں، وہ اس قبضہ گروہ کے کارندے ہوتے ہیں عام شہری نہیں، اس رویئے کی ہر جگہ مذمت کی جاتی ہے کیونکہ لکھے ہوئے لفظوں کا جواب دینے کی بجائے انہیں نفرت سے پھاڑ دینا معیوب حرکت تصور ہوتی ہے۔پی ڈی ایم نے اپنے اس نوٹس میں جو نکات اٹھائے، جو سوالات پوچھے، ان کا تعلق مفروضوں سے نہیں بلکہ زمینی حقائق سے ہے وہ حقائق جو اب اظہر من الشمس ہیں اور جن کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں بتایا گیا ہے کہ سی ای سی کے اجلاس میں سید یوسف رضا گیلانی نے یہ پیش کش کی کہ وہ پی ڈی ایم کو بچانے کے لئے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے مستعفی ہو جاتے ہیں۔ ان کی اس پیش کش کو مسترد کر دیا گیا۔ یہ بھی ایک لکھے ہوئے سکرپٹ کا غالباً حصہ تھا تاکہ سید یوسف رضا گیلانی کی وہ ساکھ بحال کی جا سکے جو سینٹ کا اپوزیشن لیڈر بن کر داؤ پر لگ گئی ہے۔ اس نوٹس کا سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لئے حکومتی ارکان کی مدد کیوں لی گئی؟ ظاہر ہے اس کا جواب اب

تک جو دیا گیا ہے وہ اس قدر بھونڈہ ہے کہ ہنسی بھی نہیں آتی۔ پھر یہ طے ہوا تھا کہ سینٹ کا اپوزیشن لیڈر پی ڈی ایم کا متفقہ نامزد کردہ ہوگا اور اس سے پہلے یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کا منصب مسلم لیگ (ن) کو دیا جائے گا۔ ان ساری باتوں کو پس پشت ڈال کر پیپلزپارٹی نے پچھلے دروازے سے سید یوسف رضا گیلانی کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوا لیا۔ بلاول بھٹو زرداری کے تمسخرانہ انداز میں نوٹس پھاڑنے سے تو صاف لگتا ہے کہ ان کے پاس ان نکات کا کوئی جواب نہیں اور وہ دھونس جما کر اس نوٹس کو واپس لینے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کیا یہ سیاسی رویہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اپنی بے عزتی کا تذکرہ تو کر رہے ہیں، انہوں نے نوٹس پھاڑ کر پوری پی ڈی ایم کی جو توہین کی ہے اس کا ازالہ کیسے ہوگا؟ چلیں جی مان لیتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری ایک نوجوان ہیں اور جلد جذبات میں آ جاتے ہیں مگر آصف علی زرداری تو جذباتی انسان نہیں ہیں، انہوں نے تو سرد و گرم کو بہت قریب سے اور سالہا سال دیکھا ہوا ہے۔ کیا بلاول بھٹو زرداری نے ان کی منظوری کے بغیر نوٹس پھاڑنے کا قدم اٹھایا؟ اگر کوئی اس سوال کا جواب ہاں میں دیتا ہے تو اسے تمغہ حماقت ملنا چاہئے۔ تو کیا پیپلزپارٹی اتنی ہی غیر سنجیدہ ہو چکی ہے یا پھر اس نے اپنا کوئی راستہ متعین کر لیا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم کے اس بیانیئے کے ساتھ نہیں چلنا چاہتی جو حکومت کو وقت سے پہلے گھر بھیجنے سے متعلقہ ہے۔ وہ ہلکی پھلکی اپوزیشن کے حق میں ہے تاکہ ڈھول بجتا رہے لیکن چونکہ وہ اپنی ساکھ بھی بچانا چاہتی ہے اس لئے پی ڈی ایم سے یک لخت نکلنا بھی اسے گوارا نہیں اب بلاول بھٹو زرداری نے نوٹس پھاڑ کے ایک جواز بنانے کی کوشش کی ہے یا تو پی ڈی ایم اس نوٹس کو واپس لے یا پھر اسے عزت کا مسئلہ بنا کر پیپلزپارٹی اتحاد سے نکل جائے۔ بہر حال یہ سکرپٹ جس نے بھی لکھا وہ یہ بات بھول گیا کہ اس طرح بلاول بھٹو زرداری کو اینگری ینگ مین بنا کر ان کی شخصیت میں چار چاند نہیں لگ جائیں گے بلکہ ان کے بار ے میں یہ منفی تاثر اُبھرے گا کہ ان کی شخصیت میں ٹھہراؤ نہیں اور ریاست ان پر انحصار نہیں کر سکتی۔


Top