”دیکھو میرے علاج کا جتنا بھی بل بنے وہ۔۔۔“ اپنے انتقال سے قبل جسٹس سیٹھ وقار نے ڈاکٹرز کو کیا ہدایت کی تھی؟ حیران کن انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پرویز مشرف کو سزا سنا کر وجہ شہرت حاصل کرنے والے جسٹس وقار سیٹھ پاکستانی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کر گئے لیکن اچانک انکی وفات کی خبر نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے باارے میں سینئر صحافی سلیم صافی کی جانب سے کچھ انکشافات کیے گئے ہیں۔

اپنے ایک کالم میں سلیم صافی تحریر کرتے ہیں کہ کورونا کی دوسری لہر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور دکھائی دے رہی ہے، اس وبا نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا، عدلیہ ، ڈی آئی خان ، پختونخوا اور پورے پاکستان کے وقار جسٹس سیٹھ وقار اب ہم میں نہیں رہے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے چند فیصلوں اور قفروں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ہم بھی کرتے ہیں، لیکن اگر دیکھیں تو جسٹس واقار احمد سیٹھ کا شمار پاکستان کے ان ججز میں ہوتا ہے جو اس تاریکی کے دور میں بھی حق اور انصاف کی شمع جلائے رہے۔انکا شمار ان ججز میں میں بھی ہوتا ہے خود نہیں بولتے بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں۔

سلیم صافی مزید لکھتے ہیں کہ میرا جسٹس وقار احمد سیٹھ کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا لیکن اگر انکے قریببی لوگوں تحاریر ملاحظہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ زمانہ طالب علمی سے ہی قول سے زیادہ عمل پر یقین رکھنے والے انسان تھے ۔

سلیم صافی کے مطابق جسٹس وقار احمد سیٹھ اتنی سادہ طبیعت کے مالک تھے کہ جب وہ پشار ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منتخب ہوئے تو سب سے پہلا کام جو کیا وہ اپنے قافلے میں موجود سیکورٹی کی گاڑیوں کو کم کروایا ، انکی دیانتداری کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جب بیمار ہوئے اور اسپتال میں داخل ہوئے تو ڈاکٹر وں کو نصیحت کی کہ ان کا بل سرکار کے خزانے سے نہیں بلکہ ان کے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا ہونا چاہئے۔