عالمی گاؤں کے ’’چوہدری‘‘ کی تبدیلی

کچھ عرصہ سے اِس دنیا کو ’’گلوبل ویلج‘‘ یعنی عالمی گائوں کہا جا رہا ہے جو چند مخصوص حوالوں سے بہت حد تک درست بھی ہے سو میں اِس ’’عالمی گائوں‘‘ کے باسیوں کو اپنے ’’مکھیا‘‘ یعنی چوہدری ڈونلڈ ٹرمپ سے نجات حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ چاہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹرمپ خان،

ملک ڈونلڈ، میاں ٹرمپو یا سائیں ٹرمپا بھی کہہ سکتے ہیں کہ گلاب کو کسی نام سے بھی پکاریں اُس کے رنگ، خوشبو اور چہرے مہرے کو قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا (مفہوم شیکسپیئر)
جب تک سورج چاند رہے گا
ٹرمپو تیرا نام رہے گا
یا…
تم کتنے ٹرمپو ہرائو گے
ہر گھر سے ٹرمپو نکلے گا
یا…
’’ٹرمپو دے نعرے وجن گے‘‘
یا…
’’میرا ٹرمپو آوے ای آوے‘‘
یہ تو ہوگیا ڈونلڈ ٹرمپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ڈوموں، بھانڈوں جیسا کام جو میرے کالم کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا لیکن بندہ بشر ہوں اِس لئے میری جگت بازی کا برا نہ منائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شروع شروع میں تو میں اِس عظیم قائد، جارج واشنگٹن ثانی کے بارے میں تھوڑا نیوٹرل، تھوڑا کنفیوژڈ تھا لیکن پھر اُس کی پے در پے پرفارمنس، بونگیوں اور بےباکیوں نے مجھے اِس سے ’’اوبھنے‘‘ پر مجبور کردیا کہ سپرپاور کی اعلیٰ ترین سیٹ پر ڈھیٹ اور سفلے جچتے نہیں۔ بظاہر میرا کیس ’’لینا ایک نہ دینے دو‘‘ والا تھا اور وجہ یہ بھی نہ تھی کہ میرے بچوں کے ننھیال ہی نہیں، سگی پھپھو یعنی میری سب سے چھوٹی لاڈلی سگی بہن بھی مدتوں سے ’’امریکن‘‘ ہیں۔ ایک ایک گھر میں مہینہ مہینہ بھی رہیں تو ایک ڈیڑھ برس تو بیت ہی جائے۔ میرے چھوٹے موٹے کنسرن کی وجہ صرف اتنی سی تھی کہ کوئی احمق مانے نہ مانے، چاہے نہ چاہے، سمجھے نہ سمجھے امریکہ اِس کرۂ ارض کی سب سے اہم ’’زمینی حقیقت‘‘ ہے، چاہے ابلیس جیسی حقیقت ہی کیوں نہ ہو۔ میں ذاتی طور پر امریکہ اور امریکنوں کی بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ امریکہ نے ایک کالونی کے سٹیٹس سے اٹھ کر سپر پاور ہونے کا وہ مقام حاصل کیا جو کسی چمپو چماٹ نے اِسے کسی طلائی طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا۔ یہ قابلِ رشک مقام اُس ملک نے خون پسینہ کماکر حاصل کیا۔ بنی نوع انسان پر جتنے احسان اکلوتے امریکہ کے ہیں، جدید دور میں کسی اور ملک یا قوم کے نہیں۔

کمال یہ کہ امریکن کوئی قوم ہی نہیں، انہیں تو لوگ کہتے ہی”A NATION OF NATIONS” ہیں۔ دنیا بھر کا میلٹنگ پوائنٹ جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی تو اگر قدرت کے ایسے شہکار پر کوئی مہم جو، منہ پھٹ مسخرہ سوار ہو جائے تو فکرمندی لازمی ہے کہ ہماری تو بنیادوں میں امریکہ ہے جسے صرف جہالت ہی جھٹلا سکتی ہے یا احسان فراموشی ہی بھلا سکتی ہے۔
ابتدا میں امریکہ ہمیں منہ نہیں لگاتا تھا یہ ہم ہی تھے جو للکڑیاں لیتے بھاگ بھاگ اس کی گود میں گھستے اور یہ سودا بیچنے کی کوشش کرتے کہ ’’مائی باپ! ہمارے نوزائیدہ سر پر دستِ شفقت رکھیں تاکہ ہم کیمونزم کے مقابلہ، سوویت یونین کے خلاف آپ کی خدمت کر سکیں‘‘۔ لمبی کہانی ہے ’’خود سپردگی‘‘ کی جو آج تک ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ مجھے تو بچپن کے دیکھے وہ مناظر اور تصاویر نہیں ملتیں جن میں ’’شیک ہینڈ‘‘ دکھایا جاتا تھا۔ ایک ہاتھ کے کفوں پر ہمارے اور دوسرے ہاتھ کے کفوں پر امریکن جھنڈے کی تصاویر ہوتیں اور نیچے لکھا ہوتا:
’’شکریہ امریکہ‘‘
ہمارے تو بزرگوں کی رگوں میں بھی امریکن گندم خون بن کر دوڑتی رہی اور پھر جب ’’سقوطِ ڈھاکہ‘‘ کے بعد امریکہ نے اندرا گاندھی کو مزید کسی حرکت کے ارادہ پر شٹ اپ کال دی، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ ہم بےچارے تو 73سال میں دنیا کو ایک ایڈیسن نہ دے سکے، امریکہ کے ایڈیسنز کی قطار بہت طویل ہے۔ مختصراً یہ کہ امریکہ ابھی تک ناقابلِ تردید زمینی حقیقت ہے اور اس کا سربراہ کسی معقول، متوازن آدمی کو ہونا چاہئے، جو ہو چکا، جس کے لئے امریکن ہی نہیں پورا گلوبل ویلج قابلِ مبارکباد ہے۔ امریکنوں کو خاص طور پر مبارکباد اور شاباش جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں ایک بڑی جھک ماری لیکن فوراً ہی اِس کا ازالہ بھی کردیا۔ بت پرست، شخصیت پرست اور شعور پرست قوموں میں یہی فرق ہوتا ہے۔