ٹائیگر فورس تا شیر جوان فورس

بہت ہی دلچسپ ’’انسانی‘‘ معاشرہ ہے جس میں ایک طرف ’’ٹائیگر فورس‘‘ ہے اور دوسری طرف ’’شیر جوان فورس‘‘ اور درمیان میں انسان نما مخلوق حیران پریشان کھڑی ایک دوسرے سے پوچھ رہی ہے کہ ’’بھائی! ہے کوئی انسانی مخلوق جو ہمیں اِن عذابوں سے نجات دِلا سکے؟‘‘۔

میں مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ ’’ٹائیگروں‘‘ اور ’’شیروں‘‘ پر مشتمل یہ فورسز معرضِ وجود میں کیسے آتی ہیں؟ کیا کسی منصفانہ مہذب، متمول، متوازن معاشرہ میں بھی اِن کی ’’سپلائی‘‘ اِسی طرح ممکن ہو سکتی ہے؟ یہ ٹائیگر اور شیر کون ہیں؟ کیوں آتے ہیں؟ کہاں سے آتے ہیں؟ اُن کے اہداف اور مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ اُن کے ماں باپ اُنہیں اِس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت کیسے دیتے ہیں؟ کیا مادر پِدر آزاد والی صورتحال درپیش ہوتی ہے یا ’’بیکار مباش کچھ کیا کر، کپڑے اُدھیڑ اُدھیڑ سیا کر‘‘ والی سچویئشن ہے؟یہ سب ’’فراغت‘‘ کی پیداوار ہیں۔ بیکاری، بیروگاری اور کچھ بھی نہ کر سکنے کی عجیب سی تھکن نے اِنہیں اِس حال تک پہنچایا ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی نوجوان پڑھ لکھ کر نکلے تو اپنے والدین کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کے بجائے سیاسی پارٹیوں کا ’’فیول‘‘ بننے پر فخر کرے اور کوئی پوچھے کہ ’’برخوردار! ڈگری لینے کے بعد کیا کر رہے ہو؟‘‘ تو وہ سینہ پھلا کر کہے کہ ’’میں شیر یا ٹائیگر کے طور پر بھرتی ہو گیا ہوں‘‘۔صورتحال دلچسپ بھی ہے اور درد بھری بھی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ اِس پر رویا جائے یا ہنسا جائے، ماتم کیا جائے یا جشن منایا جائے کہ اِس ملک کی سیاسی اشرافیہ نے بےکاری، بیروزگاری کے خاتمہ کا کیسا زبردست حل نکالا ہے۔’’شیر جوان فورس‘‘ تو بالکل ہی لاجواب ہے۔ کیا اِن شیر جوانوں کو لندن میں تشریف فرما ’’شیر جوان‘‘ خود لیڈ کرنے کی زحمت فرمائیں گے اور تشریفات لندن سے لاہور شفٹ ہو کر دادِ شجاعت دیتے ہوئے ووٹ کو عزت دیں گی؟

چشمِ بددور حسن نواز، حسین نواز، سلمان شہباز، شہباز صاحب کے داماد، جنید صفدر وغیرہ سب کے سب کڑیل اور ایک سے بڑھ کر ایک شیر جوان ہیں تو اُمید کی جانی چاہئے کہ یہ سب بھی خود میدان میں اُتر کر گھمسان کے رن میں کشتے کے پشتے لگاتے ہوئے انقلاب کی ایک نئی تاریخ رقم کریں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیا…..’’وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے‘‘آلِ غریباں کو ہی جمہوری چارے کے طور پر استعمال کرنا ہے تو مجھے استعمال ہونے والوں سے رتی برابر ہمدردی نہیں۔ اُس کو چھوڑیں، اک اور مفروضے پر غور و فکر کرتے ہیں۔ چلو مان لیا کہ ’’شہزادگان‘‘ غنیم کا خصوصی ٹارگٹ ہیں اور اُنہیں محفوظ رکھنا حکمتِ عملی کا حصہ ہے تو اِس صورتحال میں کیا ضروری نہیں کہ ن لیگ کی اے، بی اور سی کلاس لیڈر شپ کی اولادیں ’’شیر جوان فورس‘‘ کے ہر اول دستہ میں دکھائی دیں؟’’کھان پین نوں بھاگ بھریتے دھون بھنون نوں جماں‘‘یعنی کھانے پینے، موج اُڑانے کیلئے تو بھاگ بھرے اور بھاگ بھریاں جبکہ گردنیں تڑوانے کیلئے غریب غربوں کی بےمال، بدحال اولادیں۔ یہ ابلیسی جمہوریت کس کس طرح سے عوام کا استحصال اور استعمال نہیں کر رہی اور اِس انسانی ٹریجڈی کی انتہا یہ کہ شکار خود شکاریوں کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔خدا جانے ٹائیگروں اور شیروں پر مشتمل میری طرح محکوم اور مقروض معاشرہ، ایک صحت مند انسانی معاشرہ میں تبدیل ہوتے ہوئے مزید کتنیاں صدیاں مانگتا ہے، چودہ اگست 47سے آج تک کتنی نسلیں پامال ہو گئیں اور جو آج موجود ہیں… اپنے سفاکانہ استعمال اور استحصال کیلئے خوشی خوشی تیار بیٹھی ہیں۔کچھ ٹائیگرز ہیں، کچھ شیر ہیں… انسان کہاں گئے؟