ماڈرن میر جعفر و میر صادق

خاتون فون پر چیخ رہی تھی اور اردو ، انگریزی، پنجابی کا یہ مکسچر مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا سوائے اپنے نام کے۔ کبھی مجھے ’’حسن صاحب‘‘ اور کبھی ’’حسن بھائی‘‘ کہہ کے مخاطب کر رہی تھی۔ صرف آخری جملہ سمجھ آیا…… ’’اس آدمی کی گفتگو پر مجھے میر صادق یاد آ رہا ہے‘‘پاک فوج کو متنازع بنانے کی ناپاک کوشش دوسرے مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے

اور ن لیگی لیڈر شپ کا پاگل پن نیچے تک سرایت کر رہا ہے تو مجھے اپنا وہ صوفی شاعر یاد آ رہا ہے جس نے کہا تھا۔ نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا کِکرتے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایاہمارے صوفی شاعر کے اس شعر میں ’’نیچ‘‘ کا لفظ غربتوں اور محرومیوں نہیں رویوں کے حوالہ سے ہے جو شاید ’’علم کے دروازہ‘‘ حضرت علی ؓ کے اس قول سے انسپائر ہو کر لکھا گیا کہ ’’کسی کم ظرف پر احسان کرو تو اس کے شر سے ڈرو‘‘ آج یہ ’’شر‘‘ قوم کے سر پہ چڑھ کے بول رہا ہے۔ کاش نواب سراج الدولہ اور شیر میسور ٹیپو سلطان اپنے اپنے نیچوں اور کم ظرفوں کو بروقت پہچان لیتے اور میر جعفر و صادق بھی غداری کی علامتیں بننے سے بچ جاتے ۔فرمایا ’’کوئی ساکھ والا کہے کہ احد پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو میں مان لوں گا لیکن وہی شخص اگر یہ کہے کہ فلاں فلاں نے اپنی دیرینہ عادت ترک کر دی ہے تو مجھے ماننے میں تامل ہو گا‘‘(مفہوم)پنجابی زبان کی اکھان ہے کہ ’’عادتاں سراں نال ای جاندیاں نیں‘‘ یعنی موت سے پہلے آدمی اپنی عادت سے نجات نہیں پا سکتا۔بچپن میں ایک دلچسپ علامتی سی کہانی پڑھی تھی جو آج آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ ایک کچھوے اور بچھو میں تعارف ہوا جو دوستی میں بدل گیا۔کچھوا روز دریا میں ’’واک‘‘ کرتا تو بچھو اس کے انتظار میں کنارے بیٹھا رہتا۔ایک دن بچھو نے کہا ’’یار کچھوے!میں کنارے پر بیٹھا بیٹھا بور ہوتا رہتا ہوں، مجھے بھی ساتھ لے لیا کرو، میں بھی پانی پر واک انجوائے کر لیا کروں گا‘‘۔

کچھوے نے اگلے روز اسے اپنی پشت پر بٹھایا اور دریا میں اتر گیا۔پہلا دن تھا بچھو سہما سہما بیٹھا رہا لیکن پھر آہستہ آہستہ اس میں اعتماد بڑھتا چلا گیا اور وہ ریلیکس ہو کر کچھوے اور دریا کی فائیو سٹار سواری انجوائے کرنے لگا تو آہستہ آہستہ کچھوے نے محسوس کیا کہ سواری کے دوران بچھو اسے ڈنگ مارتا رہتا ہے۔ کچھوا کچھ دن تو کنفیوژن کا شکار رہا لیکن جب اسے بچھو کی اس حرکت کا یقین ہوگیا تو اس نے بچھو سے کہا کہ ’’یار ! میں تجھے رائیڈ دیتا ہوں اور تو مجھے ہی ڈنگ مارنے سے باز نہیں آتا حالانکہ مجھے تمہارے ڈنگ سے فرق تو کوئی نہیں پڑتا لیکن افسوس بہت ہوتا ہے ‘‘۔بچھو نے ’’سوری‘‘ بولا اور کہا ’’بھائی ! یہ میری عادت ہے لیکن میں اسے کنٹرول کر لوں گا‘‘۔بچھو چند دن ڈنگ مارنے سے باز رہا لیکن عادت سے مجبور ہو کر پھر وہی حرکت شروع کر دی تو ایک دن اس ’’واٹر واک‘‘ کے دوران کچھوے نے تنگ آکر ذرا تلخ لہجے میں پھر شکوہ کیا تو بچھو نے بھی بھنا کر جواب دیا کہ ’’یار ! تجھے بتایا تو تھا کہ ڈنگ مارنا میری عادت ہے ‘‘۔کچھوے نے جواب دینے کی بجائے پانی میں ڈبکی لگائی تو زہریلا بچھو چشم زدن میں لاوارث ہو کر ڈوبنے سے بچنے کیلئے ’’بچائو بچائو‘‘ کی دہائی دینے لگا تو کچھوے نے سطح آب پر آکر کہا ۔’’دوست ! جیسے ڈنگ مارنا تمہاری عادت ہے اسی طرح گہرے پانیوں میں غوطے لگانا میری بھی عادت ہے جسے میں نے تم سے دوستی کی وجہ سے کنٹرول کر رکھا تھا لیکن افسوس تجھے حیا نہیں

آئی سو اب تیرے میرے راستے جدا سمجھو‘‘یہ کہانی بھی حضرت علی ؓ کا قول اور صوفی شاعر کا شعر یاد دلاتی ہے کہ عادتیں سروں کے ساتھ ہی جاتی ہیں اور کِکروں سے لپٹی انگور کی بیلوں کا ہر گچھا زخمایا جاتا ہے۔قارئین! معافی چاہتا ہوں کہ کالم میں یہ کہانی ایسے ہی آگھسی جیسے ہماری سیاست میں اکثر نجاست اور خباثت آ گھستی ہے ورنہ کالم کے اصل موضوع کے ساتھ اس کہانی کا کیا لینا دینا؟ لینا دینا تو صرف اس بات سے ہے کہ ’’بڑے میاں تو بڑے میاں، ایاز میاں سبحان ﷲ‘‘۔ سردار ایاز صادق مجھے ہمیشہ بہت معقول اور متوازن دکھائی دیئے۔ رائے اب بھی تبدیل نہیں ہوئی لیکن دکھ اور افسوس اتنا ہوا جتنا ہر باضمیر باشعور پاکستانی کو ہوا ۔بھلے لوگو! تمہیں ہو کیا گیا ہے کہ جس ٹہنی پر بیٹھے، اسی کی شاخیں کاٹنے کے درپے ہو۔ اس ملک نے تمہیں کیا نہیں دیا؟ اور تم نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا کچھ نہیں کیا؟ تمہارے اپنے بھی تمہاری سپورٹ میں کہتے کیا ہیں ؟’’کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں ‘‘ یعنی لوٹ مار کی تصدیق وہ بھی کرتے ہیں تو میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ’’کھاتے بھی ہیں غراتے بھی ہیں ‘‘ لیکن تمہاری یہ غراہٹ اب سنگدل محبوب کے قدموں کی آہٹ نہیں رہی۔ تمہارے نام نہاد ووٹ بینک کی بھاری اکثریت تمہارے ان بالواسطہ، بلاواسطہ بینی فشریز پر مشتمل ہے جو گزشتہ چند عشروں میں ککھ پتی سے کروڑ پتی اور پھر ارب پتی ہوئے اور ہر شعبہ میں موجود ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو سہمے ہوئے سوچتے ہیں کہ ’’گزشتہ رائونڈ‘‘ کی طرح ’’حالیہ رائونڈ‘‘ کے بعد بھی ہماری گردنوں پر سوار ہو گئے تو ہمارا کیا بنےگا؟ تیسرا فیکٹر مہنگائی ہے کیونکہ ’’بھوکے‘‘ کو روٹی کے علاوہ اور کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔ دعا کرو کسی کو تمہارے ’’علاج‘‘ اور ’’اصلی دوا‘‘ کی سمجھ نہ آئے ورنہ قصوں کو قصہ ٔ پارینہ میں تبدیل ہونے اور اصل ’’تبدیلی‘‘ آنے میں ہفتے کیا، دن بھی نہ لگیں۔ ﷲ کرے فیصلہ میدانوں اور ایوانوں میں نہیں …آسمانوں پر ہو اور ہمیں ماڈرن میر جعفروں اور میر صادقوں سے نجات مل جائے۔